لقمہ دینے والے کی نماز

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ مغرب کی نماز میں تیسری رکعت کے قاعدے میں امام صاحب نے اتحیات ،درود ابراھیم،اور دعائیں ماثورہ پڑھلے اتنے وقفہ گزرنے کے بعد اللہ اکبر کہہ کر چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہونا چاہا تو پیچھے سے ایک مقتدی نے اللہ اکبر کہہ کر لقمہ دیا تو امام صاحب بیٹھ گیے اور بغیر سجدہ سہو کے نماز پوری کی اور اس مقتدی سے کہا :آپ اپنی نماز دوہرا لے
تو کیا مقتدی نماز دوہرا ءے گا؟اور کیا امام  صاحب کی نماز سہی ہے؟
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں مقتدی نے صحیح وقت پر لقمہ دیا اور امام نے لیا بھی تو نماز سب کی ہو گئی امام کا مقتدی کو جس نے لقمہ دیا اس کو نماز دورانے کا کہنا غلط ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر مقتدی نے صحیح لقمہ دیا اور امام نے لے لیا تو نہ لقمہ دینے والے کی نماز میں کوئی خرابی آئی اور نہ امام کی نماز میں اور نہ باقی مقتدیوں کی نماز میں اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں بلکہ سجدہ سہو کرنا بھی نہیں چاہے کہ یہ اس کی جگہ نہیں سجدہ واجب کے ترک کرنے پر واجب ہوتا ہے  (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 283 )
خلاصہ کلام یہ ہے نماز سب کی ہو گئی امام نے غلط مسئلہ بتایا توبہ کرے اور اپنے قول سے رجوع کریں حدیث میں ہے جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے  (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 716 ) واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 4 دسمبر 2021

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598