مالی جرمانہ منسوخ شادی کے خرافات

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ ہماری برادری نے یہ طے کیا کہ شادی میں کوئی بینڈ باجے اور ڈی جے نہیں بجائے گا اگر کسی نے یہ کام کیا تو اس پر دو ہزار روپے جرمانہ لگایا جائے گا زید نے اپنے لڑکے کی شادی میں باجے گانے کا پروگرام کیا تو برادری والوں نے زید سے دو ہزار روپے جرمانہ کے طور پر وصول کیا اس طرح کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں سائل حکیم خان ہلود 


الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں برادری والوں کا جرمانہ وصول کرنا ناجائز و گناہ ہے اسلام میں مالی جرمانہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے   اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں ۔چنانچہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام، ثم نسخ‘‘ ترجمہ:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔



 (بحرالرائق شرح کنز الدقائق،ج5،ص68،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)



    اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں:’’تعزیر بالمال منسوخ ہےاور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:’’ لا باخذمال فی المذھب‘‘ترجمہ:مالی جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔‘‘



(فتاوی رضویہ،ج5،ص111،مطبوعہ رضافاونڈیشن،لاھور) لہٰذا زید سے لیے گئے دو ہزار روپے زید کو واپس دے اور تمام برادری کے وہ لوگ جنھوں نے جرمانہ عائد کیا وہ سب توبہ کرے برادری کے لوگوں کو اس طرح شریعت کے خلاف اصول بنانا حرام اور کفر میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے اگر آپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری برادری سے خلاف شرعی کام بند کر دیا جائے تو یہ کام جرمانہ لگانے سے بند ہرگز نہیں ہو سکتا جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے بلکہ یہ کرنا چاہیے کہ جو شخص شادی میں خلاف شرع کوئی کام کرے گا تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے گا جس میں امیر غریب سب پر یہ اصول لاگو ہوگا اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے 


واِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)



 ترجمۂ کنز العرفان 



اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ (سورت نمبر 6 آیت نمبر 68  ) لہٰذا جو شخص خلاف شرع کام کرے اس کا بائیکاٹ کیا جائے آج کل شادی میں کفریہ گانے بجانے کا عام ہو گیا ہے مسلمانوں کیا تمھیں معلوم ہے کہ تم ایک کا نکاح کروا رہے ہو اور خود نکاح ٹوٹ رہا ہے جو کفریہ گانے پر رشک کرتے ہیں وہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں پھر معاذاللہ شادیوں میں بے حیائی ہنسی مذاق اتنا ہوتا ہے کہ توبہ توبہ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے 


اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۹)وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰)



 ترجمۂ کنز العرفان 



بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے(تواس عذاب کا مزہ چکھتے)۔   کیا تم سمجھتے نہیں اللہ تَعَالٰی کی ناراضگی لے کر تم کتنے دن اس دنیا میں رہوں گے آخر تمھیں جواب دینا ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا 


ومَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۳۲)



 ترجمۂ کنز العرفان 



اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ (سورت 6 آیت 32  ) مسلمانوں اللہ تَعَالٰی نے تمھیں مال دیا ہے تو کیا تم فضول خرچی کرنے کے ہے نہیں ہرگز نہیں فضول خرچ کرنے والوں سنو اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے 


اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)



 ترجمۂ کنز العرفان 



بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (سورت نمبر 17 آیت 27  ) واللہ اعلم و رسولہ 


فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 


دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598