کیا نکاح پڑھانے کے لیے قاضی ضروری ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ کیا نکاح پڑھانے کے لیے قاضی یا مولانا صاحب کا ہونا ضروری ہے اگر دو مردوں کے سامنے مرد اور عورت ایجاب و قبول کر لے تو نکاح ہوگا یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں سائل محمد وارث پالنپور گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
نکاح پڑھانے کے لیے قاضی یا مولانا صاحب کا ہونا ضروری نہیں جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے لیے دو گواہ ہوں مرد یا دو عورتیں اور ایک مرد ہو (ان ) سامنے ایجاب و قبول ضروری ہے اگرچہ مرد باہم خود ہی ایجاب و قبول کر لے نکاح پڑھانے والے کی کچھ ضرورت نہیں (فتاوی امجدیہ جلد دوم صفحہ 24 ) مگر اتنا ضرور کرے کہ امام صاحب کو کچھ نذرانہ پیش کر دے تو بہتر ہے نہیں تو وہ بیچارہ اداس ہو جائے گا کہ اور تو اس کی کوئی آمدنی نہیں ہوتی آج کل ہمارے یہاں نکاح میں مولانا کو ہزار پندرہ سو دیا جاتا ہے اگرچہ یہ امام کو دینا واجب نہیں مگر نیک عمل ہے مولانا کی دعا لیتے رہے تاکہ اللہ تَعَالٰی آپ کو مزید برکتیں عطا فرمائیں
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 5 دسمبر 2021 بروز اتوار
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں