فاسق کو سلام کرنا ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں مسجد کے امام صاحب نےاپنی تقریر میں کہا کہ میں بنمازی ڈاڑھی منڈھے جاہل اور فاسق گمراہ لوگوں کو سلام نہیں کرتا ہوں کیونکہ ایک عالم دین اور امام کے لئے ایسے لوگوں کی تعظیم کرنا جاءز نہیں ہے کچھ ذمداروں نے کہ کہاامام صاحب غلط تقریر کرتے ہیں سب کو ساتھ لے کر نہیں چلتے امام صاحب کو منتظمین نے مسجد سے نکال دیا گاؤں کے علماء نےامام صاحب کا ساتھ دیا اور کہا کہ امام نےاپنی تقریر میں جو کہا وہ حق ہے امام کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے مسجد کے کچھ ذمداروں نے کہا کہ یہ علمائے کرام فتنہ پھیلارہے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں امام صاحب کا قول صحیح ہے یا مسجد کے ذمداروں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔؟۔۔۔۔۔المستفتی امام صاحب وجملہ مصلیان گاؤں رمنیا پوکھر پوٹھیا کشنگنج بہار وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں امام صاحب کا کہنا درست ہے حدیث میں ہے منافق کو سید مت کہو اگر وہ سید ہو (اگر تم نے اسے سید یا معظم و محترم کہا ) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا (الترغیب و الترہب جلد دوم صفحہ 413 ) اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ فاسق گمراہ بدعتی انسان بھی قابل احترام نہیں ہو سکتا کہ احترام تو ایمان تقوی پرہیزگاری کا اور خوف خدا کا ہوتا ہے اور یہ ان لوگوں میں پایا نہیں جاتا سیدی اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں بدمذہب کو سلام کرنا حرام ہے فاسق کو سلام کرنا ناجائز ہے (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 68 ایپس ) اور فرماتے ہیں فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے تو لفظ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھانے یا کوئی لفظ کہے نہ سلام ہو نہ تعظیم کہنے پر قناعت کرے (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 68 ایپس ) فاسق کی تعظیم نہیں بلکہ ازروئے شرع اس کی توہین ضروری ہے (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 203 ) خلاصہ کلام امام کو جن لوگوں نے غلط کہا وہ لوگ امام سے معافی مانگیں اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ علماء فتنہ پھیلارہے ہیں یہ جملہ سخت بے ادبی کا ہے یہ لوگ بھی اعلانیہ توبہ کرے اور علماء سے معافی مانگیں اور امام صاحب کو بھی حالات کے مدنظر جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہے بلکہ کچھ نرمی کے ساتھ انھیں دینی مسائل سکھانے کی کوشش کرے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ(۵۴) ﱭوَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ترجمۂ کنز العرفان تو اے حبیب!تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کوئی ملامت نہیں ۔ اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے { فَتَوَلَّ عَنْهُمْ: تو اے محبوب!تم ان سے منہ پھیرلو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے منہ پھیر لیں کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور اسلام کی دعوت اورہدایت دینے میں انتہائی محنت کرچکے اور آپ نے اپنی کوشش میں معمولی سی بات بھی نہ چھوڑی توان کے ایمان نہ لانے سے آپ پر کوئی ملامت نہیں ۔ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے دو فوائد: آیت نمبر55 سے معلوم ہوا کہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا چاہئے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے سمجھایا جائے اس کے بارے میں امید ہوتی ہے کہ وہ برے کام چھوڑ کر نیک کام کرنے لگے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ سمجھانے اور نصیحت کرنے کے ان فوائد کو قرآنِ پاک میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ’’وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ‘‘(اعراف:۱۶۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والاہے؟انہوں نے کہا: تمہارے رب کے حضورعذر پیش کرنے کے لئے اور شایدیہ ڈریں ۔ واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ہماری طرف منسوب کرے دارالافتاء آنلائن ویبسائٹ 👉یہاں کلک کریں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598