وضو میں مسح کرنا بھول گیا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید وضو میں مسح کرنا بھول گیا اور اس کے اعضائے وضو خشک ہونے کے بعد یاد آیا تو اس نے صرف مسح کر کے نماز پڑھنی تو زید نے کہا نماز نہیں ہوئی کہ وضو میں مسح فرض ہے اور پے در پے دھونا فرض ہے اور نے مسح کیا تب اعضاء خشک ہو چکے تھے جواب عنایت فرمائیں سائل محمد علی جمیلانی 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق بیشک چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے مگر جو بعد میں مسح کیا اس سے فرض وضو ادا ہو گیا جو نماز پڑھی گئی وہ ہو جائے گی مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وضو میں ترتیب شرط نہیں ترتیب سنت ہے یہ فوت ہو گئی یہو ہی پے در پے دھونا بھی سنت ہے  اور سنت اس وقت ہے جب عذر نہ ہو اور اگر کسی عذر سے پے در پے نہ کیا تو خلاف سنت نہیں اور ظاہر ہے کہ بھولنا بھی عذر ہے البتہ ترتیب کی سنت فوت ہو گئی مگر اس پر ملامت نہیں کہ یہ فعل  بلا قصد ہوا پھر بھی خلاف سے بچنے کے لیے سرے سے وضو کرے تو بہتر ہے مگر  وضو  نہ کیا اور صرف مسح پر اکتفا کر لیا جب بھی نماز ہو جائے گی  ( فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 5 ) واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 3 دسمبر 2021

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598