ٹھیکے پر زمین دی تو عشر کس پر
دو ایکڑ زمین ہے وہ بھی ٹھیکے پر ہے قرضہ بھی ہے فصل بھی زیادہ نہیں ہوتی جوان بیٹیاں بھی ہے تو کیا اب اس فصل پر عشر دینا ہوگا یا نہیں؟
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
جس شخص نےزمین ٹھیکہ پرلی ہواورسالانہ ٹھیکہ نقدی کی صورت میں دیتاہو ، تواس زمین سےحاصل ہونےوالی فصل کاعشربھی اسی پر لازم ہوگا ، مالک زمین پراس زمین کاعشرلازم نہیں ہوگا۔
اجارے پر دی جانے والی زمین پرعشرکےبارےمیں نہرالفائق میں ہے:”اجرارضه فالعشرعلى المؤجرعنده وقالاعلى المستاجر “ ترجمہ:زمین اجارےپردی توامام اعظم کےنزدیک عشرمالک زمین پرہوگااورصاحبین کےنزدیک کاشت کارپرہوگا۔
(نھرالفائق،کتاب الزکاۃ،باب العشر،جلد1،صفحہ455،مطبوعہ کراچی)
اس اختلاف کوبیان کرنےکےبعدعلامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ارشادفرماتےہیں:” فلا ینبغی العدول عن الافتاء بقولھما فی ذلک“ترجمہ:اس معاملےمیں صاحبین کےقول سےعدول کرنامناسب نہیں ہے۔
(ردالمحتار،کتاب الزکاۃ،جلد3،صفحہ326،مطبوعہ کوئٹہ)
اسی بارےمیں اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن ارشادفرماتےہیں:”صاحبین کامذہب یہ ہےکہ عشرصرف کاشت کارپرہے اس پرفتوی دینےمیں کوئی حرج نہیں بلکہ ان ملکوں میں جہاں اجرت نقدی ٹھہری ہوتی ہےوہاں اسی پرفتوی ہوناچاہیے۔“واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ203،ر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں