حرام مال سے صدقہ قبول نہیں
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے میں کہ جوا کھیلنے والے اور سود کھانے والے اور بھی حرام طریقے سے مال کمانے والے کا صدقہ خیرات قبول ہوتے ہیں سائل محمد امین
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مال حرام سے نہ تو کوئی صدقہ قبول نہ اس کی دعائیں قبول اللہ تَعَالٰی نے ہمیں اپنے رسول کے ذریعے حکم فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے (سورت 23 آیت 51 )👇🏼
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)
 ترجمۂ کنز العرفان 
اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں
پاکیزہ اور حلال چیزیں کھانے کی ترغیب اور ناپاک و حرام چیزیں کھانے کی مذمت: میں چند آحدیث 👇🏼
(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص پاکیزہ (یعنی حلال) چیز کھائے اور سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگ ا س کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۶۰-باب، ۴ / ۲۳۳، الحدیث: ۲۵۲۸)
(2)…حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہر وہ جسم جو حرام سے پلابڑھا توآگ اس سے بہت قریب ہوگی۔(شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی طیب المطعم والملبس،۵ / ۵۶،الحدیث:۵۷۵۹)
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے منہ میں مٹی ڈال لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں ایسی چیز ڈالے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیاہے۔(شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔الخ،فصل فی طیب المطعم والملبس،۵ / ۵۷،الحدیث: ۵۷۶۳)
(4)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا اور فرمایا:
’’ یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھاکام کرو،بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں ۔
اور فرمایا:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھریچیزیں کھاؤ۔
پھر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک ایسے شخص کاذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال غبار آلود ہیں ،وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے’’یا رب! یا رب! اور اس کا کھانا پینا حرام ہو،اس کا لباس حرام ہو،اس کی غذا حرام ہو تو ا س کی دعا کہاں قبول ہو گی۔(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیّب وتربیتہا، ص۵۰۶، الحدیث: ۶۵(۱۰۱۵))
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حلال رزق کھانے اور حرام رزق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
حلال رزق پانے اور نیک کاموں کی توفیق ملنے کی دعا:
حضرت حنظلہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھ سے عرض کی کہ آپ یہ دو دعائیں مانگا کریں : ’’اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ طَیِّبًا وَّ اسْتَعْمِلْنِیْ صَالِحًا‘‘ یعنی اے اللہ !، مجھے پاکیزہ رزق عطا فرما اور مجھے نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔(نوادر الاصول، الاصل الثانی والستون المائۃ، ۱ / ۶۳۹، الحدیث: ۸۹۶(
:واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں