مسلمانوں کی مدد کرنا

*💚*مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کا بیان*💚* 
10حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے اپنی پسندیدہ چیز اسے دیکر ملاقات کرے تاکہ وہ وہ اس سے خوش ہو جائے اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اسے خوش کرے گا 11حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کسی مسلمان بھائی کو خوش کر دینا اسباب مغفرت میں سے ہے 12 
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے پسندیدہ اعمال یہ ہے کسی مسلمان کو خوش کرنا یا اس کی مصیبت دور کر دینا یا اس کی گھبراہٹ کا ازالہ کر دینا یا اس کا قرض ادا کر دینا 
13 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مومن کو خوش کرتا ہے تو اللہ تعالٰی اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی توحید بیان کرتا رہتا ہے جب وہ شخص بعد وفات اپنی قبر میں پہنچتا ہے تو وہ خوشی  (بصورت فرشتہ ) اس کے پاس آکر کہتی ہیں کیا تو مجھے پہچانتا ہے ۔؟ وہ شخص کہتا ہے تو کون ہے وہ کہتی ہیں وہ خوشی ہوں جو تو نے فلاں بندے کو دی تھی آج اس وحشت میں تیری غمگسار و مونس ہوں گی میں تجھے تیری حجت  (نکیرین کے سوالات کا جواب ) سکھاؤں گی تجھے قول ثابت پر ثابت رکھوں گی قیامت کے دن تجھے تیرے مقام کا مشاہدہ کرواں گی تیرے رب کی بارگاہ میں تیری سفارش کروں گی اور جنت میں تیرا ٹھکانہ دکھاؤں گی  (الترغیب و الترہب جلد دوم صفحہ 305 )  تشریح 
ماشاءاللہ ان آحدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کر دینا اس کی مدد کر دینا یہ سب سے پسندیدہ اعمال میں سے ہے مسلمانوں آپ کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو قوم کی خدمت میں خرچ کر کے اپنے لیے آخرت میں نجات کا ذریعہ تیار رکھے اور غریب مسلمانوں کا خیال رکھے بالخصوص ائمہ مساجد جن کی تنخواہ صرف 7 یا دس ہزار روپے ہوتی ہے مسلمانوں کیا تم نے کبھی غور فکر کیا کہ تمھارے اخراجات اتنی تنخواہ سے پورے نہیں ہوتے ہیں تو اس مظلوم امام کے دل پر کیا گزرتی ہوگی اگر جماعت کی حیثیت تنخواہ اچھی دینے کی نہیں ہے تو کم سے کم وہ حضرات جنھیں اللہ نے مال دیا ہے وہ خدارا ان مظلوم امام کا خیال کرے ہماری تحقیق کے مطابق اکثر امام شرعی فقیر ہوتے ہیں آپ کچھ نہ کر سکے تو کم از کم اپنی زکوۃ سے ہی ان کو خوش کر دیا کرے جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں عالم اگر غریب ہے تو اسے دینا جاہل کو دینے سے افضل ہے مگر عالم کو دینے میں اس کا لحاظ رکھے کہ اس کا اعزاز مدنظر ہو ادب کے ساتھ دے جیسے چھوٹے بڑوں کو نذر دیتے ہیں اور معاذاللہ عالم دین کی حقارت اگر قلب میں آئی تو یہ ہلاکت اور بہت سخت ہلاکت ہے  (بہارشریعت حصہ 5 صحفہ 927 )  یعنی اپنے امام صاحب سے ادب کے ساتھ یہ پہلے پوچھ لیں کہ حضرت کیا آپ پر زکوۃ فرض نہیں ہے اگر امام صاحب کہے کہ نہیں میرے پاس اتنا مال نہیں جس سے مجھ پر زکوۃ واجب ہو بس یہ جواب سن کر آپ اپنی زکوۃ کی رقم سے امام صاحب کو عیدی وغیرہ کہ کر روپیہ دے دے انھیں زکوۃ کہنے کی ضرورت نہیں صرف دل میں نیت کافی ہے قاس اتر جائے تمھارے دل میں میری بات تو یہ مظلوم امام بھی اپنی زندگی بہتر گزار سکتے ہیں اور ان مظلوم امام کی ایک دعا آپ کی آخرت سنوار سکتی ہے لہٰذا اپنی زکوۃ نکالنے سے پہلے امام صاحب کو ضرور کچھ حصہ دے دیا کرے یہ ہی وہ امام ہے جو تمھاری پیدائش سے لے کر قبر تک کام آتا ہے اور یہ ہی وہ امام کہ جب تمھاری اولاد تمھیں 40 دن یا ایک سال ورسی منا کر بھول جاتی ہے مگر یہ وفادار امام اب بھی دن میں پانچ مرتبہ تمھارے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں بس سمجھ دار کے لیے اشارہ کافی ہے اللہ تَعَالٰی تمام مسلمانوں کو اپنے امام سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
 **فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* 
 *دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598