نماز چوتھی رکعت میں قعدہ نہ اور پانچویں؟

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے جواب میں اگر کسی امام نے نماز عشاء میں چار رکعت کے بجائے بھول سے پانچ رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اب حکم شرع کیا ہوگا یہ نماز ہوگی یا پھر اعادہ ضروری ہے کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دے شکریہ موقع عطاء فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا، تو جب تک اس زائد رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو واپس قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرے  (تفہیم المسائل جلد 5 صحفہ 85 ) ابو بکر اسکاف سے سوال کیا گیا کہ تراویح کی دو رکعت نماز میں قعدہ میں بیٹھیں بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا؟  آپ نے فرمایا اگر اسے قیام میں یاد آیا تو لوٹ آئے اور قعدہ مکمل کرے اور سلام پھیر دے اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد یاد آیا تو اگر ایک اور رکعت کا اضافہ کر لیا تو اب یہ ایک سلام کے ساتھ چار رکعت ہو جائے گی اگر دوسری رکعت میں تشہد کی مقدار بیٹھ چکا تھا تو اس صورت میں اختلاف ہے عام فقہاء کے قول کے مطابق یہ دو سلامو سے شمار ہوگی  (یعنی چار رکعت ادا ہو جائے گی )
اور یہ ہی صحیح ہے  (فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 118 ) امام احمد رضا خان قادری رحمت اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ قعدہ اخیرہ کے بعد گمان ہوا کہ یہ قعدہ اولی تھا اور کھڑا ہوگیا سجدہ سے قبل یاد آیا تو اب سجدہ سے لوٹ کر دوبارہ تشہد پڑھ کر سہو میں جائے یا ویسے ہی سجدہ میں چلا جائے  آپ فرماتے ہیں عود کر کے بیٹھنا چاہے اور سجدہ سہو میں چلا جائے اور دوبارہ تشہد نہ پڑھے درمختار میں ہے کہ اگر چوتھی رکعت میں تشہد کی مقدار بیٹھ گیا پھر بھول کر کھڑا ہو گیا تو لوٹ آئے اور سلام پھیر دے اور اگر کھڑے کھڑے سلام پھیر دے تب بھی صحیح ہے ۔ ماتن کا قول ہے پھر کھڑا ہوا( لیکن ابھی پانچویں رکعت کا ) سجدہ نہ  کیا تو لوٹے اور سلام کہے یعنی بیٹھنے کے لئے لوٹے اور بیٹھ کر سلام پھیرے ۔۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تشہد نہ لوٹائے 
(فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 183 ) اور مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں چار رکعت والے فرض میں چوتھی رکعت کے بعد قعدہ نہ کیا تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور پانچوں کا سجدہ کر لیا تو فرض باطل ہو گئے  (بہارشریعت جلد اول صفحہ 192 )  مفتی اعظم پاکستان فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں امام کو چاہے کہ دو رکعت والی نماز میں تیسری رکعت اور چار رکعت والی میں پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پیشتر لوٹ آئے اور اگر نہ لوٹا اور اس رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تو ایک رکعت اور زاہد پڑھے
اگر ایک رکعت اور نہ ملائی تو وہ نماز فاسد ہو جائے گی  (تفہیم المسائل جلد 5 صحفہ 86 )  اگر کسی نے ایک قعدہ کے ساتھ تین نفل پڑھے تو مغرب کی نماز پر قیاس کرتے ہوئے اسے جائز قرار دینا چاہیے لیکن صحیح یہ ہے یہ نفل جائز نہیں ہیں کیونکہ اس کی آخری رکعت جس کے بعد قعدہ کیا ہے وہ فاسد ہو گئی کیونکہ وہ دو پر زائد ایک نفل رہ گئی جبکہ ایک رکعت نفل جائز نہیں لہٰذا اس آخری رکعت کے فساد سے پہلی دو رکعت بھی فاسد ہو جائیں گی اور چار پڑھ لیں اور قعدہ اولی نہ کیا تو مفتی بہ مذہب پر چاروں دو ہی رکعت کے قائم گنی جائیں گی  (فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 567 )  خلاصہ کلام آپ نے سوال میں یہ نہیں بتایا کہ امام نے پانچویں رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے چوتھی رکعت میں قعدہ کیا تھا یا نہیں  سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ قعدہ نہیں کیا گیا تھا اس لیے سب کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر چوتھی رکعت میں قعدہ کیا تھا تو نماز ہو جائے گی واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598