مردار کی ہڈیوں کا حکم

السلام علیکم ورحمة اللٌٰه وبرکاتہ

مردار کی ہڈیوں سے بننے والی اشیاء کی شرعی حیثیت 

اس حوالے سے مواد درکار ہے رہنمائی فرما دیں۔ 

عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق ۔مذبوح یا غیر مذبوح جانوروں (اگرچہ ان کا گوشت نہ کھایاجاتاہو)کی  خشک ہڈیاں پاک ہیں، اگر ان ہڈیوں کاسفوف برتن بنانے میں استعمال ہوتاہے تو ایسے برتن خریدنااور استعمال کرنادرست ہے، اس لیے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جانوروں کی ہڈیاں پاک ہیں اور ان سے انتفاع بھی درست ہے، اگرچہ وہ ہڈیاں کسی مردار جانور ہی کی کیوں نہ ہوں۔


البتہ انسان اور خنزیردونوں اس حکم سے مستثنی ہیں، انسان بوجہ احترام وتکریم کے اور خنزیرنجس العین ہونے کی وجہ سے ۔اور خنزیر کے اجزاء میں سے بشمول ہڈی کے کسی بھی جز سے نفع اٹھاناجائزنہیں ہے جیسا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جانوروں کی ہڈیاں دوا میں استعمال کی جا سکتی ہے بشرطیکہ ذبیحہ کی ہڈیاں ہوں یا خشک ہوں کہ اس میں رطوبت باقی نہ ہو ہڈیاں اگر ایسی دوا میں ڈالی گئی ہوں جو کھائی جائے گی تو یہ ضروری ہے کہ ایسے جانور کی ہڈی ہو جس کا کھانا حلال ہو اور ذبح بھی کر دیا ہو مردار کی ہڈی کھانے میں استعمال نہیں کی جاسکتی  (بہارشریعت حصہ 16 صفحہ 148 ) واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن الہند 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598