جمعہ میں سہو ہو تو کیا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ جمعہ کی نماز میں امام سورتہ الفاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول گیا آخر میں سجدہ سہو کر دیا دریافت طلب امر یہ ہے کہ نماز ہوئی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں سائل عثمان قادری باڑمیر راجستھان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں نماز ہوگئی کہ واجب بھول سے چھوٹ جائے تو تلافی کے لئے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور سجدہ سہو کرنے سے نماز صحیح ہو جاتی ہے جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۂ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری) اور جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو سجدہ سہو نہ کرے (بہارشریعت حصہ چہارم صفحہ 717 ) یعنی جہاں جمعہ میں جماعت کثیر ہو تو بہتر ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے تو بھی کوئی حرج نہیں اور سوال میں سجدہ سہو کر لیا تھا تو نماز ہوگئی واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598