دیوبندی لڑکی سے نکاح؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں بکر کی نسبت ہندہ ہوئی ہے اور اب نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ہے مگر پتہ چلا کہ ہندہ کے والدین دیوبندی مسلک کے ماننے والے ہیں اور ہندہ کناڈا میں رہتی تھی بکر اور اس کے والدین سنی ہے اور ہندہ کے والدین بد عقیدہ ہے ہندہ یہ کہتی ہے مجھے سنی دیوبندی کا پتہ نہیں میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں مسلمان ہوں اب اس صورت میں کیا حکم شرع ہے بکر ہندہ کے ساتھ نکاح کرے یا نہیں دوسری بات نکاح پڑھانے کے لیے جو مولانا ہوگا وہ بدعقیدہ ہوگا حکم شرع بیان فرما کر رہنمائی فرمائیں 
سائل عبدالحمید اشرفی گاندھی نگر گجرات
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
دیوبندی اپنے کفریات قطعیہ مندرجہ حفیظ الایمان صفحہ 8 تحذیر الناس صفحہ 3، 14 ۔28، اور براہن قاطعہ صفحہ 51 کی بنا پر بمطابق فتوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں اور مرتد کا نکاح کسی سے ہرگز نہیں ہو سکتا فتاوٰی برکاتہ صفحہ 324 میں ہے مرتد کا نکاح مرتدہ، مسلمہ، اور کافر اصلیہ کسی سے جائز نہیں  ۔۔۔! لہٰذا بکر جو کہ سنی ہے اس کا نکاح ہندہ کے ساتھ نہیں ہو سکتا  حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدمذہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو نہ ان کی جنازہ کی نماز پڑھوں اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو (مسند امام اعظم صفحہ 23 )   لہٰذا یہ نکاح ہرگز جائز نہیں اور ہندہ کے یہ کہنا کہ مجھے پتہ نہیں سنی دیوبندی کیا ہوتا ہے میں تو صرف مسلمان ہوں ہندہ بڑی چالاکی سے اپنے عقائد پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ یہ نکاح نہ کیا جائے ورنہ یہ نکاح تو ہوگا نہیں خالص زنا ہوگا  اور اس نکاح سے بکر کے عقائد پر بھی خطرہ ہوگا بہرحال جب ہندہ کے والدین دیوبندی مسلک سے بےزاری نہیں کرتے تب تک ہرگز نکاح جائز نہیں  واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598