خطبہ کے عصا کے لمبائی کتنی ہو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ جس لاٹھی سے ٹیک لگا کر جمعہ کا خطبہ پڑھا جاتا ہوں کیا اس کی لمبائی کی کوئی *حد د مقرر ہے* ؟ یا کتنی بھی لمبی ہو چل جائے گی؟
ساءل: عارف خان عطاری
از:کاریلا،سریندر نگر ،گجرات
*وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
جمعہ میں جو خطیب ہاتھ میں عصا پکڑتے ہے اس میں اختلاف ہے ہے کہ یہ سنت ہے یا مکروہ فتاوی جاویدیہ جلد اول صفحہ 111 بحوالہ فتاوی رضویہ کے لکھا ہے جمعہ میں عصا لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ، اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موئکیدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے
*فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 303* فتاوی رضویہ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ عصا لینا ہی نہ چاہے تو اب چھوٹے بڑے کا سوال ہی ختم لیکن بعض جگہ جہلا اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ سالوں سے عصا پکڑنے کا رواج ہے تو اب نیا حکم کیوں کر ہے ایسے لوگوں کو نرمی سے سمجھایا جائے کہ پہلے مسائل جاننے کے لیے اتنے ذرائع نہیں تھے اب الحمدللہ اللہ کے فضل سے نیٹ پر کتابیں بھی فری مل جاتی ہے اور شرعی مسئلہ بتانے والے مفتیان عظام بھی موجود ہے جب درست مسئلہ معلوم ہوا تو اب اسی پر عمل کرنا چاہیے پھر بھی جہاں فتنہ کا اندیشہ ہو تو عصا لینے میں کوئی حرج نہیں واللہ اعلم ورسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تاریخ 9 ستمبر 2021 بروز جمعرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں