نماز میں طویل قرائت کرنا
السلام عليكم و رحمتہ اللہ برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ امام نماز میں قرائت بہت طویل کرتے ہیں جس سے بعض نمازیوں کو اعتراض ہے کہ اتنی طویل قرائت نہ کرے امام صاحب پر کیا حکم شرع وارد ہوتا ہے جواب عنایت فرمائیں *سائل حافظ وسیم رضا مہاراشٹر انڈیا*
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں اگر مقتدیوں کو تکلیف ہو تو امام کو طویل قرائت کرنا منع ہے جیسا کہ *صحیح بخاری رقم الحدیث 6106 میں ہے
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید نے خبر دی، کہا ہم کو سلیم نے خبر دی، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے (ایک مرتبہ) نماز میں سورة البقرہ پڑھی۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہوگئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں حضرت معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورة البقرہ پڑھنی شروع کردی۔ اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہوگیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے معاذ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو، تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا (جب امام ہو تو) سورة اقرأ، والشمس وضحاها اور سبح اسم ربک الأعلى جیسی سورتیں پڑھا کرو۔ علامہ شامی علیہ الرحمتہ نے صحیحین سے ایک حدیث نقل فرمائی حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا *جب تم میں کا کوئی جماعت سے نماز پڑھائے تو چاہے کہ ہلکی پڑھائے اس لیے کہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں الخ اور یہاں تک کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ سو آدمی میں سے ننانوے لمبی قرائت کو پسند کرتے ہوں اور ایک لمبی قرائت کو ناپسند کرے تو ایک کی رعایت برتی جائے گی* 📕فتاوٰی حلیمہ صفحہ 88📙 خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک شخص کی شکایت پر توجہ دی جائے گی جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں ایک شخص کی شکایت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا اس حدیث پاک سے بھی ثابت ہوا کہ ایک مقتدی کی شکایت پر بھی توجہ دی جائے (اکبری ) *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارiالافتاء فیضان مدینہ*
تاریخ 24 فروری 2021 بروز بدھ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں