توبہ کی امید پر گناہ ؟

کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ کوئی شخص توبہ کی امید پر گناہ کرتے رہنا کیسا ہے کیا یہ کفر نہیں ہے جواب عطاکریں کرم نوازی ہوگی سائل بلال اویسی الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق توبہ کی امید پر گناہ کرتے رہنا حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  ارشاد فرماتے ہیں    :  ’’ جو شخص مَعصِیَّت(یعنی اللہ و رسول کی نافرمانی) کرے اس کو اچّھا بتانااس کے یہ معنیٰ ہوتے ہیں   کہ گناہ گناہ نہیں   اور جس گناہ کا ثُبوت نصِّ قَطعی سے ہو اس کے معصِیَّت ہونے کا انکار کفر ہے مَثَلًا شرابی ، جُواری ، چور وغیرھم سب ہی اچّھے ہوں   تو یہ اَفعال گناہ نہ ہوئے اور ان کو گناہ نہ جانناقراٰنِ مجید کا انکار ہے ۔   ‘‘ (فتاوٰی امجدیہ ج ۴ص۴۵۵)  خلاصہ کلام کسی شخص کا توبہ کی امید پر گناہ کرتے رہنا نادانی ہے موت کا وقت معلوم نہیں کب آجائے اگر کوئی گناہ اس سے ایسا ہوا ہوگا جس سے حکم کفر ہوتا ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے آخرت برباد ہو جائے گی اور اللہ کے عذاب کو ہلکا سمجھنا بھی کفر ہے لہٰذا عقلمند آدمی اگر نفس کی شامت سے گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرتا ہے اور شیطان کا پیروکار جھوٹی امید میں مبتلا ہو جاتا ہے لہٰذا شیطان کی باتوں میں نہ اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞ ترجمہ اگر شیطان تمھیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو (سورتہ 6 آیت 68 ) نوٹ گناہوں سے توبہ نہ کرنے والے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں مگر جب تک گناہوں کو حلال سمجھ کر نہیں کرتے حرام سمجھتے ہوئے کرتے ہیں تو ان پر کفر کا فتوی نہیں ہوگا مگر یہ لوگ فاسق مستحق عذاب نار ہوئے واللہ اعلم ورسولہ دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری تاریخ 19 ستمبر 2021 بروز اتوار

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598