سوال کس کو حلال ہے

السلام علیکم کیا فرماتے ہی علماے کرام اس مسۂلہ می اگر سید آل رسول غریب ہے تو وہ اپنی مدد کے لیے سوال کرسکتا ہےیا پھر لوگوں سے کہلواکر ایک آدمی معتبر اعلان کرے سید صاحب کو ہدیہ دو یہ کہاں تک صحیح ہے قرآن وحدیث کی روشنی می جواب عنایت فرماے از قلم میرمحمد اکبری چھاجالا جالور ====== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ====== *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* سید صاحب صرف غریبی کی وجہ سے سوال نہیں کر سکتے اور نہ ہی لوگوں سے کہلانا جائز شریعت مطہرات میں کن لوگوں کو سوال کرنا جائز ہے ان کا خلاصہ موجود ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف تین لوگوں کو سوال کرنا جائز ہے ایک تو اس شخص کو جو کسی کے قرض کا ضامن ہو دوسرے اس شخص کو جو کسی آفت و مصیبت میں مبتلا ہو اور اس کا مال ہلاک ہو گیا ہو اور تیسرا وہ شخص جو غنی ہو مگر اس کو کوئی ایسی سخت حاجت پیش آگئی جسے اہل محلہ بھی جانتے ہو تو اس کے لیے بقدر حاجت مانگنا جائز ہے ان تینوں کے علاوہ اور کسی کو سوال حرام ہے مجبوریوں کے علاوہ سوال کرتا ہے اور کھاتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے *مشکوتہ المصابیح رقم الحدیث 1832* 📗 خلاص کلام سائل یہ دیکھ لیں کہ سید صاحب ان مذکورہ صورت میں کس حالت میں ہے اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک حالت پائی جاتی ہے تو ان کو سوال کرنا جائز ہے مگر صدقہ واجبہ نہیں لے سکتے ہیں سید صاحب کی حاجت ہے جو ہم نے بیان کیا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کی مدد کرے مال حلال سے *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* *تاریخ 14 فروری 2021 بروز جمعرات*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598