کفریہ عقائد رکھنے والی عورت سے نکاح؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ  زید نے ہندہ سے 2017 میں نکاہ کیا اور نکاہ کے دو سال بعد  زید کو اپنے اپنے سسُرال جاکر یہ بات پتہ چلی کہ ہندہ کے *ماں باپااور اس کے بھائی وغیرہ بت پرستی کرتے ہیں* اور زید کے مطابق اس نے جب ہندہ سے اس بارے میں بات کی اور کہا :کہ تمہارے گھروالو کو یہ کام چھوڑنے کا کہو  تو اس پر ہندہ نے کہا :کہ میرے بھائیوں کو جتنے بیٹے ملے ہیں وہ اس بت نے دیے ہیں  اور زید کا کہنا ہے کہ :ایک بار جب ہندہ کو کوئی چوٹ لگی تھی تو اس کے گھر والو نے اس وقت کسی کافر کو بلاکر جھاڑ پھونک بھی کروایا تھا  یہ سب دیکھ کر زید نے ہندہ سے کہا :کہ اگر تو یہ سب چھوڑ دیتی ہے تو میں تجھے رکھونگا ورنہ یہ امید مت رکھنا کہ میں تجھے اپنا لونگا اتنا سب سننے کے بعد بھی نہ تو ہندہ نے اور نہ ہی اس کے ماں باپ نے یہ کہا کہ ہم اس سے توبہ کر تے ہیں یا کر لینگے  زید نے دو سال تک سمجھایا لیکن ہندہ اور اسکے ماں باپ نہیں مانتے  زید کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرا دین پر چلنا ہندہ کو بلکل پسبد نہیں آتا اور وہ اسلامی تعویزات پر بھی یقین نہیں رکھتی  *تو کیا یہ نکاح پہلے سے ہوا تھا یا نہیں ؟* اور *زید اگر دوسری شادی کرنا چاہے تو کیا ہندہ کو طلاق دینی پڑیگی یا نہیں ؟* اور *کیا اس پورے معاملے میں زید بھی گناہگار ہوگا ؟* اور *اگر طلاق دینی ہے تو کتنی طلاق دے؟* سائل: عارف  عطاری قادری از:کاریلا,  سریندر نگر , گجرات ___________________________________________________ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں سوال میں جو صورتحال بیان گئی ہے واقعی ہندہ اور اس کے والدین کا یہ عقیدہ کفریہ ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو گئے جبکہ زید کے سمجھا نے کے باوجود اپنے کفریہ عقائد سے توبہ نہیں کرتے ہیں تو یہ بے عقل لوگ ہے جیسا کہ اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے  ۔واِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰)(اور جب ان سے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ وہ ہدایت یافتہ ہوں )📕قرآن مجید سورتہ نمبر 2 آیت 170 📕  معلوم ہوا کہ ہندہ اب بھی اپنے ماں باپ کے کفریہ عقائد سے راضی ہے اور خود بھی کفریہ عقائد رکھتی ہے اس لیے وہ اسلام سے خارج ہے عقائد میں کسی کی بھی تقلید نہیں کی جاتی جیسا کہ اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے ۔۔۔۔وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸)(اور ہم نے انسان کو اپنے مال باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تو ان کی بات نہ مان الخ )📗   قرآن مجید سورتہ 29 آیت 8 📗 معلوم ہوا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا سب سے بڑا گناہ ہے ایسا گناہ کرنے کا اگر ماں باپ کہے تو ان کا کہا نہیں مانا جائے گا ہندہ کا عقیدہ پہلے ہی کفریہ تھا تو  ہندہ سے نکاح نہیں ہوا کیونکہ وہ اسلام سے خارج مرتدہ تھی جیسا 📙فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 432 میں ہے مرتد کا نکاح مرتدہ عورت یا مسلمہ عورت کافر اصلیہ سے جائز نہیں اور ایسے ہی مرتد عورت کا نکاح کسی سے جائز نہیں،  لہٰذا زید اگر ہندہ کو رکھنا چاہیے تو اس سے توبہ کر وائے پھر اس سے نکاح کرے اگر ہندہ اپنے کفریہ عقائد سے توبہ  نہیں کرتی تو اس کو رکھنا جائز نہیں *اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے !یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳) ، (اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہے )📗قرآن مجید سورتہ نمبر 9 آیت نمبر 23 📗   زید اگر رکھنا نہیں چاہتا ہندہ کو توبہ کرنے کے بعد بھی تو ایک طلاق دے سکتا عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے *واللہ اعلم و رسولہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598