دیوبندی امام کی اقتداء کرنے والے کی نماز؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں جو کہ زید دیوبندی کے امام کی اقتداء کرتا ہے اور ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتا ہے چونکہ زید نیاز بھی کرتواتا ہے تو زید کے یہاں آنا اور جانا فاتحہ دینا کیسا ہے زید عقائد باطلہ فاسدہ کو جانتا ہے پھر بھی دیوبندی کے امام کی اقتداء کرتا ہے تو زید کے یہاں فاتحہ دے سکتے ہیں یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مع مدلل مفصل عین نوازش ہوگی۔ المستفتی عزیزم محمد عتیق احمد اشرفی پرتاپ گڑھ یوپی
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* __
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
دیوبندی عقائد کفریات کی بناء پر کافر ہے اگرچہ ہر دیوبندی کافر نہیں مگر جو دیوبندی عالم ہے اور ان لوگوں کے عقائد کفریات کی بناء پر فتاوٰی ہشام الحرمین میں کفر کا فتوی ہے ان کے کفر میں شک کرے یا انھیں مسلمان جانے وہ بھی کافر ہے اور دیوبندی امام ضرور ان کو اپنا پیشوا جانتے ہیں جیسے مولانا اشرف علی تھانوی اور رشید احمد اور مولوی خلیل احمد وغیرہ کافر مرتد ہے ان کو مسلمان جانتے والا بھی کافر ہے اور ایسے شخص کی اقتداء حرام حرام حرام ہے اس کی اقتداء میں جتنی نمازیں پڑھی باطل ان تمام نمازوں کو لوٹانا واجب دیوبندی سے میل جول رکھنا حرام ہے *قال اللہ تعالٰی* اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہے *قرآن مجید سورتہ نمبر 9 آیت 23* لہٰذا زید توبہ کرے اور دیوبندی لوگوں سے دور رہے ورنہ گمراہی ہو جائے گا *قال اللہ تعالٰی* اور ظالموں کی طرف نہ جھوکو کہ تمھیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاوں گے، *قرآن مجید سورتہ 11 آیت 113* اب رہا سوال زید کے گھر فاتحہ خوانی کرنے جانا تو اگر اس کے گھر والے صحیح العقیدہ سنی ہے تو اس کے گھر جانا جائز ہے زید کی وجہ سے ہم دوسروں کو سزا نہیں دے سکتے سب لوگ اپنے اپنے اعمال کے جواب دار ہے *قال اللہ تعالٰی* اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو تمھارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو الخ *قرآن مجید سورتہ 5 آیت 105* زید کو سمجھایا جائے کہ وہ توبہ کر لیں اگر باز نہیں آتا تو اس سے بائیکاٹ کیا جائے جیسا کہ اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے، اور اگر وہ تمھیں جھٹلائیں تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمھارے لیے تمھاری کرنی تمھیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمھارے کام سے تعلق نہیں *قرآن مجید سورتہ 10 آیت 41* *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 1 اکتوبر 2020 بروز جمعرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں