کافر کے پیسے مدرسہ میں لگانا کیسا؟
السلام عليكم ورحمتہ الله وبرکاتہ
کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کافر اگر مدرسے کے تعمیری کام میں روپے دیں تو کیا کافرکا روپیہ مدرسے میں لگاسکتے ہیں کی نہیں عند شرع جواب مطلوب ہے ۔25/6/2021 سائل محمد ادریس رضوی گجرات پاٹن شہر رادھنپو
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
کافر اگر اپنی خوشی سے دیتا ہے تو جائز ہے مگر نہ لینا بہتر ہے فتاوی جاویدیہ میں بحوالہ فتاوی برکاتہ سے ہے کفار کا روپیہ مسجد میں لگانا جائز ہے مگر نہ لینا بہتر ہے *فتاوی جاویدیہ جلد اول صفحہ 192*
جائز تو ہے مگر کافر سے نہ لینے میں ہی عافیت ہے، کفار کی تعمیر سے مسلمانوں پر ان کا احسان ہوگا اور کفار سے مسلمانوں پر احسان کرانا جائز نہیں ہے *شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 35* کفار سے چندہ لینے میں کہی خرابیاں ہے اگرچہ وہ اپنی خوشی سے دیتا ہے نمبر 1 کفار کا احسان نمبر 2 ان کی تعظیم جو کسی طرح جائز نہیں، علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں یہ دنیا کی نگاہوں میں اسلام کے وقار کو کم کرنا ہے *شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 33*
جب آپ ان سے چندہ لوگے تو ہو سکتا ہے کہ وہ بھی کبھی آپ سے بت خانہ بنانے کے لیے چندہ مانگے اور آپ کو دینا پڑے یہ حرام ہے لہٰذا کفار کا روپیہ نہ مسجد میں لیا جائیں نہ مدرسہ میں اور نہ کسی دینی کام میں ان سے لے ورنہ مسلمانوں کے حرام کام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے
*واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تاریخ 25 جون 2021 بروز جمعہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں