نابالغ کے نکاح کی شرعی حیثیت

نابالغ کے نکاح کی شرعی حیثیت؟ دارالافتاء فیضان مدینہ السلام علیکم ورحمة اللٌٰه وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین بچپن کے نکاح کی شرعاً کیا حیثیت ہے کیا والد کی اجازت سے ھوگا یا جس کی کفالت میں ہے اس کی اجازت سے ھوگا اگر بالغ ھو جانے کے بعد لڑکی اس نکاح کو قبول نہ کرے تو کیا حکم ہوگا برائے کرم جواب عنایت فرمایئے شکریہ عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق نکاح کے لیے چند شرطیں ہیں 1 عاقل ہونا ناسمجھ بچے نے نکاح کیا تو نہ ہوا 2 بلوغ نابالغ اگر سمجھ والا ہے تو منعقد ہو جائے گا مگر ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا (بہارشریعت حصہ ہفتم صفحہ 12 ) ولی میں باپ دادا کا کیا ہوا نکاح اسی طرح لازم ہو جاتا ہے کہ لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اختیار فسخ نہیں ہوتا اگرچہ باپ دادا نے مہر مثل سے کم میں یا غیر کفو سے نکاح کر دیا ہو بشرطیکہ ان کا سوء اختیار نہ معلوم ہو یعنی اس سے پہلے اس کے باپ دادا نے اپنی کسی لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو فاسق سے نہ کیا ہو اور باپ دادا کا سوء اختیار معلوم ہو تو ان کا کیا ہوا نکاح نہ ہوگا اور اگر باپ دادا کے علاوہ کسی دوسرے ولی نے مثلاً چچا وغیرہ نے لڑکی کا نکاح کیا اور لڑکی کا باپ مر گیا ہو تو اس صورت میں اگر لڑکا لڑکی کا کفو نہیں ہے یا اس کا مہر مہر مثل سے کم ہے تو یہ نکاح بلکل صحیح نہیں ہوا یہاں تک کہ اگر لڑکی بالغ ہونے کے بعد جائز رکھے پھر بھی جائز نہ ہوگا اور اگر یہ بات نہ ہو بلکہ لڑکا لڑکی کا کفو ہو اور مہر مثل بھی باندھا ہو تو نکاح صحیح ہو گیا مگر لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اختیار ہے کہ اس نکاح کو باقی رکھے یا فسخ کر دے مگر فسخ نکاح کے لئے قضاء قاضی ضروری ہے (فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 411 ) فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598