میاں بیوی دونوں روزے سے تھے اور شور نے جماع کر دیا تو ۔؟
: سوال میاں بیوی دونوں روزے سے تھے، شوہر نے زبردستی بیوی سے جماع کیا بیوی کے منع کرنے کے باوجود بھی کیا اب کیا حکم شرع وارد ہوتا ہے
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر اکراہ شرعی متحقق ہے (یعنی قتل یا کسی عضو کے تلف یا ضرب شدید کی صحیح دھمکی دی گئی ہے )تو صرف مرد پر کفارہ لازم ہوگا عورت پر نہیں اگرچہ اثناء جماع (یعنی جب مرد کام کر رہا تھا )عورت اپنی خوشی سے مشغول رہی ہوں اور اگر اکراہ
[شرعی متحقق نہیں تو دونوں پر کفارہ لازم ہوگا 📗فتاوی مشاحدی صفحہ 275، اور بہارشریعت میں ہے کہ مرد کو مجبور کر کے جماع کرایا یا عورت کو مرد نے مجبور کیا پھر اثنائے جماع میں اپنی خوشی سے مشغول رہا یا رہی تو کفارہ لازم نہیں کہ روزہ تو پہلے ہی سے ٹوٹ چکا ہے مجبوری سے مراد اکراہ شرعی ہے اور عورت نے نابالغ یا مجنون سے وطی کرائی یا مرد کو وطی کرنے پر مجبور کیا تو عورت پر کفارہ واجب ہے مرد پر نہیں (جبکہ مرد پر اکراہ شرعی ہو ورنہ اس پر بھی کفارہ
ہوگا ) بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 997 واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں