محرم میں شادی رد حنیف قریشی

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں آج کل سوشل میڈیا پر بہت سے علماء نے ثناء خوان اویس رضا قادری دامت برکاتہم پر محروم الحرام اپنے بچوں کی شادیاں کرنے پر حضرت پر خارجی ناصبی یزیدی ہونے کا فتوی لگا رہے ہیں کہ محرم میں شادیاں کیوں کی کیا محرم الحرام میں شادی کرنا منع ہے جبکہ کچھ علماء کرام نے جائز کہا تو مسلمان تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کون صحیح ہے اور کون غلط لہٰذا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے سائل احمد رضا عطاری احمداباد گجرات وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* محرم الحرام میں شادی کرنا جائز ہے یا نہیں اس کا جواب عرض کرنے سے پہلے ایک بات اچھی طرح یاد رکھیں حکم شرع کی اصل جو ہے وہ ہے اللّٰہ و رسول کی اطاعت جیسا کہ اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا ہے ! کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے یہ نہیں ہے کہ (جائز نہیں ہے ) جب اللّٰہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انھیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو وہ بیشک صریح گمراہی میں بھٹک گیا ( *قرآن مجید سورتہ 33 آیت 36 )* اس آیت سے معلوم ہوا کہ حکم شرع اللّٰہ اور اس کے رسول (عزوجل صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم ) کے حکم پر عمل کرنا واجب ہے جیسا ایک آیت میں ہے !!!! جو کچھ تمھیں رسول عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو الخ ( *قرآن مجید سورتہ 59 آیت 7 )* اب ہمیں محرم الحرام میں شادی کرنے سے اللّٰہ و رسول نے منع نہیں فرمایا ہے اگر مخالف کے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کریں ورنہ تم جیسے لوگوں سے ہمیں سنی ہونے کی سند کی ضرورت نہیں ہے نہ تم دین کے ٹھیکیدار ہو جو جس کو چاہو اسے خارجی ناصبی یزیدی کہو تم لوگ اویس رضا پر ہی نہیں بلکہ پوری اہلسنت کو فتنہ کی آگ میں جھونک رہے ہو تمھارا یہ فتوی نہیں بلکہ فتنہ ہے جو بغیر تحقیق کے کسی مسلمان کی دل آزاری کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی حالانکہ اویس رضا قادری نے صاف واضح کر دیا ہے کہ میں نے کوئی شادی نہیں کی تھی اور اگر بالفرض کوئی بھی مسلمان اس ماہ میں شادی کرتا ہے تو شرع نے کہا منع کیا ہے ثابت کرو کوئی ایک آیت یا حدیث یا فقہاء کا کوئی قول؟ اس فتنے کی پہلی شاخ ملک پاکستان کا ایک مولوی حنیف قریشی ہے جو کذاب ہے اور اس کی پیروی میں ہمارے ملک کے کچھ نادان خطیب بھی ہے یہ لوگ فتوی لگا رہے ہیں مگر ان کا حال تو یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا! !آدمی کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دیں *(صحیح مسلم رقم الحدیث 7 )* ایک اور حدیث میں ہے کہ آدمی کے جھوٹ سے اتنا کافی وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرے ( *صحیح مسلم رقم الحدیث 9 )* اب ان خطیبوں کے جھوٹے ہونے میں کیا شق ہے جو بغیر کسی دلیل کے کسی کو خارجی ناصبی یزیدی کہتے ہیں اس سے ان لوگوں کی علمی حیثیت کتنی ہے ۔۔؟ اللّٰہ فرماتا ہے! ! اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہی کسی قوم کو بے جانے میں ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ ۔( *قرآن مجید سورتہ 49 آیت 6 )* اب ان لوگوں کے کذاب اورفاسق ہونے پر کیا کمی ہے کذاب تو اس لیے کہ اویس رضا پر انھوں نے الزام لگایا مگر ثابت نہیں کر سکے اور فاسق اس لیے کہ ایک مسلمان کی دل آزاری کی اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے جیسا کہ *فتاوی جاوید یہ جلد 1 صفحہ 8* میں ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے ! اور مسلمان کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے، تو کتنا اچھا ہے تیری خوشبو کتنی اچھی ہیں تو کتنے بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی (صلی اللہ علیہ وسلم ) جان ہے مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت ) اللّٰہ تَعَالٰی کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، *فتاوی جاوید یہ جلد اول صفحہ 196* اب ان خطیبوں کو غور کرنا چاہیے جو مسلمان جائز کام کر رہے ہیں لیکن تمھارے موافق نہیں تو تم ان کو خارجی ناصبی یزیدی کہنے لگو؟ اب ہم ان خطیبوں کا آپریشن کرتے ہیں ان کا کہنا کہ محرم الحرام غم کا مہینہ ہے کہ اس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی بیشک یہ بہت غم کی بات ہے اور ہر مسلمان کو غم ہونا چاہیے *دل میں* یہ احساس ہونا چاہیے نہ کے غم کا اظہار کیا جائے پھر غم کے اظہار کی بھی شرعا اس کی بھی حد ہے امام مسلم نے ایک باب باندھا ہے تین دن سے زیادہ سوگ کی . حرمت نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انھیں تین احادیث بیان کی ہے حضرت زینب کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت امالمومینین ام حبیہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت ابو سفیان رضیاللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت ام حبیہ نے پیلے رنگ کی ایک خشبو منگائی اور ایک باندی نے وہ خشبو ان کے رخساروں پر لگائی پھر انھوں نے کہا قسم بخدا مجھے اس خشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو عورت اللّٰہ تَعَالٰی اور روز آخرت پر ایمان لائی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے البتہ خاوند کی موت پر چار ماہ دس دن سوگ کرے *صحیح مسلم رقم الحدیث 2619* حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو عورت اللّٰہ تَعَالٰی اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے *صحیح مسلم رقم الحدیث 3629* یعنی انسان کو غم کا احساس تو ہونا چاہیے لیکن تین دن کے بعد غم کا اظہار کرنا حرام ہے اب **فیصلہ قارئین* کے ہاتھوں میں ہے کہ حکم شرع تو یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے اور یہ نادان خطیب کہی سدیو گزرنے کے بعد بھی سوگ کا حکم دیتے ہیں یاد رکھیں ہمیں حکم ہے اللّٰہ و رسول کی اطاعت کا نہ کہ کسی پیر خطیب کی اطاعت کا جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ ذلیل شخص ہے جیسا کہ اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا ہے، ! بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں سے ہیں *(قرآن مجید سورتہ 58 آیت 20 )* انصاف کو آواز دو جس چیز سے اللّٰہ و رسول (عزوجل صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم ) نے منع نہیں کیا تو یہ کون لوگ ہیں منع کرنے والے یہ گمراہ لوگ ہیں جو شریعت کے اندر اپنی طرف سے زیادتی کرتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں حدیث میں ہے حضرت ثوبان سے روایت ہے نبی کریم صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے پیشواؤں کی طرف سے خوف ہے ( *مختلف مسائل صفحہ 8 بحوالہ سنن دارمی جلد اول رقم الحدیث 211* یہ خطیب جو مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں ایسے لوگ فاسق ہے ان سے دور رہنے کا حکم ہے حضرت ہرم بن حیان بیان کرتے ہیں *فاسق عالم* سے بچو اس بات کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ نے انھیں خط میں لکھا کہ فاسق عالم سے مراد کیا ہے ہرم اس بات سے خوفزدہ ہو گئے ہرم نے جواب میں لکھا اے امیرالمومنین اللّٰہ کی قسم میری مراد صرف نیکی ہی تھی بعض اوقات کوئی ایسا حکمران ہوتا ہے جو اپنے علم کے مطابق بات تو کرتا ہے لیکن اس کا عمل گناہ پر ہوتا ہے ایسا شخص لوگوں کو غلط فہمی،میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں ( *مختلف مسائل صفحہ 11 )* جیسا حنیف قریشی نے اور اس جیسے خطیبوں نے ایک غلط فہمی میں مبتلا ہو کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ محرم الحرام میں شادی کرنے سے شریعت نے کہی منع نہیں کیا ہے مسلمان کو چاہے کہ وہ صرف قرآن و سنت کا دامن تھام کے رکھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوش خبری سنو، کیا تم شہادت نہیں دیتے کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللّٰہ کا رسول ہوں اور یہ اللہ کا قرآن ہے اس کا ایک سیرا اللّٰہ کے دست قدرت میں ہے تو دوسرا سیرا تمھارے ہاتھ میں پس اس کو مضبوطی سے تھام لو پھر تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے نہ ہلاک ہو گے ( *کنزالعمال جلد اول رقم الحدیث 937 )* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ہمیں کسی خطیب یا پیر مولوی کی بات وہ ہی قابل قبول ہوگی جو قرآن و سنت کے مطابق ہو ورنہ اس کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے جیسا کہ ان خطیبوں کی یہ بات کہ محرم الحرام میں شادی نہیں کرنا چاہیے ان کے پاس ممانعت کی کوئی دلیل انھوں نے پیش نہیں کی جبکہ ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ محرم الحرام میں شادی کرنا جائز ہے جیسے پہلے نکاح کرنا سنت تھا اب بھی سنت ہے اب ہم ایسے مفتیان عظام کے فتوے پیش کرتے ہیں جن کے علم پر اہلسنت کو فخر ہے! حضرت مفتی تطہیر احمد رضوی فرماتے ہیں ماہ محرم الحرام میں کتنی رسوم و بدعات و خرافات آج کل مسلمانوں میں رائج ہو گئی ہے ان کا شمار کرنا مشکل ہے انھی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ مہینہ سوگ اور غمی کا ہے اس ماہ میں بیاہ شادی نہ کی جائے حالانکہ اسلام میں کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ غم منانا ناجائز ہے اور ان ایام میں بیاہ شادی کو برا سمجھنا گناہ ہے نکاح سال کے کسی دن میں منع نہیں خواہ محرم الحرام ہو یا صفر یا اور کوئی مہینہ ( *غلط فہمیاں صفحہ 133 )* اس فتوے پر غور کریں حضرت نے فرمایا کہ اس ماہ میں شادی کرنا برا سمجھنا گناہ ہے انصاف کو آواز دو یہ خطیب مسلمانوں کو گناہ کی دعوت دیتے ہیں یا نہیں منع کر کے مفتی اعظم پاکستان پروفیسر حضرت منیب الرحمن صاحب سے اسی طرح کا سوال ہوا آپ فرماتے ہیں محرم، صفر، سال یا سال کے کسی بھی مہینے میں نکاح کرنا منع نہیں ہے ( *تفہیم المسائل جلد اول صفحہ 243 )*... امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ماہ محرم الحرام و صفر میں نکاح کرنا کسی مہینے میں منع نہیں ہے *(فتاوی رضویہ جلد 11 صفحہ 265 )* ( *احکام شریعت صفحہ 127)* قارئین کرام ہم نے مکمل تحقیق کے ساتھ واضح کر دیا کہ محرم الحرام ہو یا اور کوئی مہینہ کسی میں شادی کرنا منع نہیں ہے تحریر کے طویل ہونے کے خوف سے ہم نے اختصار سے جواب لکھا ہے ورنہ جواز پر ہم اللہ کے فضل سے اتنے حوالے پیش کر سکتے ہیں کہ یہ مخالف شمار کرتے کرتے تھک جائیں گے اللّٰہ تَعَالٰی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے *واللہ اعلم ورسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 25 اگست 2021 بروز بدھ ✍🏻

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598