کورانا وائرش کی میت کا حکم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ تمام علماء کرام کی بارگاہ میں بڑے ہی ادب کے ساتھ سوال ہے کہ
ایک ایک آدمی کچھ بیمار تھا اور 15 دن سے ہوسپیٹل میں داخل تھا آج صبح اس کا انتقال ہو گیا
انا للہ و انا الیہ راجعون
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس کو کرونا کی بیماری تھی اور ڈاکٹر نے اس لباس کے اندر بھی میت کو ملبوس کر دیا جو آج کل کرونا بیماری والوں کو دیا جاتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی تنبیہ کی کہ غسل نہ دیا جائے
تو ایسی حالت میں کیا کیا جائے کیا غسل دیا جائے یا غسل نہ دیا جائے
جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی از محمد اکبر اکبری گاؤں اناپور چھوٹا تحصیل دھانیرا گجرات
____ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*_______________
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں میت کو غسل دینا ضروری ہے ممکن نہ ہونے کی صورت میں تیمم کرانا ہوگا ورنہ نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی مگر دونوں صورتوں میں مجبوری ہے کہ اسے کھولا نہیں جاسکتا تو اب بغیر نماز جنازہ پڑھے اس کو دفن کر دیا جائے پھر بعد دفن جنازہ پڑھا جائے جیسا کہ مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں اس کی قبر پر نماز پڑھیں اب چونکہ غسل ناممکن ہے لہذا اب (نماز جنازہ ) ہو جائے گی *بہار شریعت حصہ چہارم باب نماز جنازہ صفحہ 831 ایپلیکیشن*
*واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 5 دسمبر 2020 بروز ہفتہ*✍🏻
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں