ایسی نوکری کرنا جائز نہیں جس کی وجہ سے نماز نہ پڑھ سکے؟
علمائے کرام سے ایک سوال ہے کہ ایک شخص فجر کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے تو کمپنی کی بس نکل جاتی ہے نماز فجر کاtaim چھ بجھ کر سات منt پر شرو ہوتا ہے 6بجھے بس آگءی اور راستے میں بس روکتی نہیں ہے منزل پر پہنچ تا ہوں تو سورج نکل آیا اب کیسے نماز ادا کروں برائے کرم جواب دے مہربانی ہوگی
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں اگر ہمیشہ کا یہ وقت ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتے تو ایسی نوکری کرنا حرام ہے جیسا کہ اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے، وہ مرد جن کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی وہ اس دن سے ڑرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹ پلٹ (ہو جائے) گے اور آنکھ *قرآن مجید سورتہ 24 آیت 37* لہٰذا آپ ایسی نوکری کے بجائے دوسری نوکری تلاش کرے جس میں نماز پڑھنے میں خلل پیدا نہ ہو *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
فقیر *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 28 نومبر 2020 بروز ہفتہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں