بیوا عورت عدت میں گھر سے باہر جا سکتی ہیں؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے جواب میں کہ ایک بیوہ خاتون جو کہ عدت میں ہے کیا وہ چار ماہ دس دن سے پہلے اپنے گھر سے بہار نکل سکتی ہے کیا اپنے رشتے داروں کے حالات معلوم کرنے یا بیمار کی عیادت کرنے جا سکتی ہے یا نہیں اور ہاں عورت جوان نہیں ہے بلکہ ضعیف ہے قرآن حدیث کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں محمد جمال الدین اکبری کوٹھی وانکانیر *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* عورت جوان ہو یا بوڑھی عدت طلاق ہو یا وفات، اس پر عدت واجب ہے اور بغیر عذر شرعی کے باہر نکلنے کی اجازت نہیں، جیسا عالمگیری میں ہے کہ عورت مطلق حرہ بالغہ عاقلہ مسلمہ ہے اور حالت اختیاری ہے تو یہ عورت نہ رات میں باہر نکلے گی نہ دن میں (البتہ عدت وفات ) میں وہ (ضرورت سے) دن میں نکل سکتی ہے اور کچھ رات تک مگر اپنی منزل کے سوائے دوسری جگہ رات بسر نہیں کرے گی (فتاوی عالمگیری جلد دوم صفحہ 545 ) اور بیوا عورت کو جو دن کے کچھ حصے میں نکلنے کی اجازت ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ہے جیسا مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں موت کی عدت میں اگر باہر جانے کی حاجت ہو کہ عورت کے پاس بقدر کفایت مال نہیں اور باہر جاکر محنت مزدوری کر کے لا ئیگی تو کام چلے گا تو اسے اجازت ہے کہ دن میں اور رات کے کچھ حصے میں باہر جائے اور اگر بقدر کفایت خرچ موجود ہے تو اسے بھی گھر سے نکلنا مطلقاً منع ہے اور اگر خرچ موجود ہے مگر باہر نہ جائے گی تو نقصان پہنچے گا مثلاً زراعت کا کوئی دیکھنے والا نہیں اور کوئی ایسا نہیں اس کام پر مقرر کرے تو اس کے لیئے بھی جا سکتی ہے مگر رات کو اسی گھر میں رہنا ہوگا ( *بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 245*) خلاصہ کلام یہ ہے کہ عدت میں باہر جانے کے جو عذر فقہاء نے بیان کیا ہے اس میں مریض کی عیادت کا بیان نہیں ہے پھر عدت واجب ہے اور عیادت مستحب ہے اس لیئے مستحب کے لیے واجب کو ترک نہیں کر سکتے البتہ آج کل عیادت کرنے کے لیے بہت سے ذرائع موجود ہے مثلاًا فون سے حال دریافت کر لیں یا مریض محرم ہو تو برائے راست (Layiv )سے بھی بات کر سکتے ہیں *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 25 جون 2021 بروز جمعہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598