رات کو میت دفن کرنا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے بارے میں کہ لوگوں میں مشہور ہیں کہ رات کے بارہ بجے کے بعد میت دفن نہیں کر سکتے اور خاص کر مرد کی میت کو یہ کہا تک درست ہے جواب عنایت فرمائیں ساءل : محمد ذکی عطاری از :زیناباد سریندر نگر۔ گجرات *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* لوگوں کی بات غلط ہے، میت کو جتنا جلد ہو سکے اس کی تدفین کر دی جائے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، *جنازہ کو جلدی لے چلو پس اگر وہ نیک ہے تو اس کی خیر کی طرف جلدی پہنچا اور اگر اس کے علاوہ بد ہے تو تم اس کو اپنی گردنوں سے اتار دوں 📕 *صحیح مسلم رقم الحدیث 2186* میت کو جلد دفن کرنے کے متعلق ایک حدیث میں ہے کہ حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو ئے تو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے پھر ارشاد فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے موت کے بعد مجھے اس کی خبر دینا اور تہجیز و تکفین وغیرہ میں جلدی کرنا کیونکہ کسی مسلمان کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان دیر تک رہے 📕 *سنن ابی داؤد* ) ایک روایت میں ہے کہ تم میں سے کوئی مرے تو اسے نہ روکو بلکہ جلد دفن کے لیے لے جاؤں 📗 *فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 310* *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 6 مئی 2021 بروز جمعرات

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598