ماہ رمضان المبارک اعلانیہ کھانا

دارالافتاء فیضان مدینہ: بغیر عذر شرعی کے رمضان المبارک میں اعلانیہ کھانا کیسا کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ کچھ لوگ بغیر عذر شرعی کے رمضان المبارک میں اعلانیہ کھاتے پیتے ہیں اور پان بیڑی وغیرہ استعمال کرتے ہیں ان پر کیا حکم شرعی وارد ہوتا ہے الجواب بعون الملک الوھاب ایسے لوگ شعار اسلامی کی کھلے عام توہین کرنے والے اور دین کا مذاق اڑانے والے ہیں ایسے لوگ اگر بے عذر شرعی ماہ رمضان کے مبارک دنوں میں سرعام کھاتے پیتے ہیں تو حکومت اسلامیہ پر فرض ہے کہ انھیں قتل کر دے یا عمر قید کی سزا دیدے جیساکہ فتاویٰ یورپ صفحہ 320 مگر ہمارے یہاں اسلامی حکومت نہیں لھاذا ایسے لوگوں کا باءیکاٹ کیا جائے * واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم بالصواب کتبہ علی بخش اکبری 🖋️ [01/03 8:56 am] دارالافتاء فیضان مدینہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ روزہ کی حالت میں قے ہونے سے روزہ فاسد ہو جائے گا یا نہیں جواب عطا کریں؟ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق : قصداً بھر مونھ قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو مطلقاً روزہ جاتا رہا اور اس سے کم کی تو نہیں اور بلا اختیار قے ہوگئی تو بھر مونھ ہے یا نہیں اور بہر تقدیر وہ لوٹ کر حلق میں چلی گئی یا اُس نے خود لوٹائی یا نہ لوٹی، نہ لوٹائی تو اگر بھر مونھ نہ ہو تو روزہ نہ گیا، اگرچہ لوٹ گئی یا اُس نے خود لوٹائی اور بھر مونھ ہے اور اُس نے لوٹائی، اگرچہ اس میں سے صر ف چنے برابر حلق سے اُتری تو روزہ جاتا رہا ورنہ نہیں ۔ (5) (درمختار وغیرہ)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598