میت کے گھر والوں کی مدد؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ علماۓ کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ میت کے تیجے پر کچھ لوگ پیسے دیتے ہیں میت کے گھر والوں کو مسلم بھی دیتے ہیں اور غیر مسلم بھی دیتے ہیں تو ان پیسوں کا لینا جاٸز ہے یا نھیں اور دوسری بات وہ پیسے مسجد کے پیشاب خانہ وغیرہ میں لگا سکتے ہیں یا نہیں جواب عطا کریں بڑی کرم نوازی ہو گی ۔ ۔۔۔ بشیر احمد اکبری پاٹن گجرات ==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*===== *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* میت کے گھر والوں کو پیسا دیا جاتا ہے وہ جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور غیر مسلم اگر اپنی خوشی سے دیتا ہے تو اس کو بھی لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں کے کفار حربی ہے اور حربی کا مال عقود فاسد کے ذریعے حاصل کرنا ممنوع نہیں اور اس پیسوں کو مسجد میں بھی خرچ کر سکتے ہیں جیسا کہ مفتی حضرت فقیہ ملتا رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کفار کا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگنا جائز ہے مگر نہ لینا بہتر📗 *فتاوی برکاتہ صفحہ 192*📙 *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* ✍🏻 *تاریخ 18 جنوری 2021 بورز پیر*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598