مسجد کے بھنڈاری کی جھولی مسجد میں پھیرا نا؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام مسٸلہ ذیل کے بارے میں شہر بھینمال کے اند چار جگہ جمعہ کی نماز قاٸم ہے کافی سالوں سے مسجد کی صفاٸی کا کام شہر غریب فقرا جسے قوم فقیر کہتے ہیں وہی قوم صفائی کرتی ہے جمعہ کے روز مسجد کے اندر مسجد کی جھولی پھرتی ہے اسکے ساتھ ساتھ مسجد میں صفائی کرنے والا ساٸیں وہ بھی پیٹی گھوماتا ہے یہ سلسلہ پشتینی چل رہا ہے صفائی کرنے والوں کو قوم کوٸی تنخواہ یا نذرانہ لگ سے نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی ایسا کوٸی فنڈ ہےجس سے قوم انکو الگ سے تنخواہ دے سکے فی الوقت رمضان کے آخری جمعہ میں عیدگاہ مسجد میں بھینمال شہر کے مولانا ریاض پاشا صاحب نے ساٸیں کی گھومتی ہوٸی پیٹی کو روک دیا جو ساٸیں خود پھیرتا ہے مولانا نے اعلان کرکے قوم کو کہا کی ساٸیں فقیر کو دینا حرام ہے اس کو بند کرو اس سے کافی نمازی مسجد کے اندر ہا ہو ہوا اس کے بعد امام صاحب سے لوگوں نے سوال کیا کیا یہ صحیح ہے تو مولانا صاحب نے حرام کا فتوی دیا ایسے کاموں سے بچے رہو پیٹ میں پیسہ ڈالنا حرام ہے کیا یہ مولانا صاحب کا کہنا صحیح ہے آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں تاکہ مسلم آپس میں محبتیں برقرار رہیں شکریہ المستفتی مولانا تاج اکبری بھینمال *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں مولانا نے جو کہا کہ فقیر کو دینا حرام ہے یہ بلکل غلط مطلق حرام کہنا درست نہیں سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے علماء نے منع فرمایا ہے ( *فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 417* ) غور کریں جہاں سیدی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے تو مسجد کے سائل کو دینا منع لکھا ہے اور یہ مولانا صاحب حرام کہہ رہے ہیں حکم شرعی میں ہر جگہ حرام کا حکم لگانا درست نہیں حرام کے لیے دلیل قطعی کی ضرورت ہے ۔۔۔اب صورت مسؤلہ میں فقیر جو مسجد کی خدمت کر رہا ہے اور اس کی کوئی تنخواہ مقرر نہیں ہے بلکہ وہاں یہ عرف عام ہے کہ مسجد میں مسلمان اس کو کچھ نہ کچھ دیتے ہیں لہٰذا یہ دینا اور فقیر کا لینا جائز ہے ،،،جس نے حرام کہا ہے وہ فقہی اصول سے جاہل ہے مفتی ہو یا قاضی لوگوں کی حالت سے واقف ہونا ضروری ہے جو عرف کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے ،،عرف،، وہ عادت ہے جو بغیر عقلی تعلق کے بار بار کیا جائے اس قاعدے کی اصل سرکار صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان، جس کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے، ،عرف عادت بہت سے مسائل کا منبع ہے حتی کہ فقہاء نے عرف کو ایک مستقل اصل قرار دیا ہے یہ بھی فرمایا ہے کہ عرف و عادت کی وجہ سے حقیقت کو ترک کر دیا جائے گا اور عرف و عادت کا اعتبار اسی وقت معتبر ہوگا جب وہ غالب و شائع ہو ( *تخصیص فی الفقہ صفحہ 50* ) اور سوال میں فقیر کو دینے کا عرف بہت پرانا ہے لہٰذا فتوی عرف کے مطابق جواز کا ہے البتہ اگر مسجد میں نمازیوں کو خلل ہو تو مسجد سے باہر اس کو مسلمان پیسا دے کہ اس خدمت کی کوئی تنخواہ نہیں دیتے ہیں یہاں پھر اس کی تنخواہ مقرر کر دیں *واللہ اعلم و رسولہ* *نائب مفتی دارالافتاء فیضان مدینہ* *کتبہ علی بخش نقشبندی باڑمیر راجستھان* *الجواب صحیح* *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* *الجواب صحیح* *مولانا محمد علی اکبری* *الجواب صحیح* *مولانا اسماعیل نقشبندی*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598