ننگے سر نماز پڑھنا کیسا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے منع ہے یا گناہ جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا شاہد رضا خان جامی الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق حضرو اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ عمامہ ہے اور فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کو تین قسم کیا ہے اگر بہ نیت تواضع و عاجزی تو جائز ہے اور بوجہ کسل ہو تو مکروہ، اور معاذ اللہ نماز کو بے قدر اور ہلکہ سمجھ کر ہو تو کفر ننگے سر رکھنے کا احرام میں حکم ہے اور اس حالت میں شبانہ روز برابر سر برہنہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب سے ثابت بغیر اس کے ننگے سر کی عادت ڈالنا کوچہ بازار میں اسی طرح پھرنا نہ ہرگز ثابت ہے نہ شرعاً محمود (فیضان فتاوی رضویہ صفحہ 170 ) واللہ اعلم و رسولہ دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598