قبر پر بیری کے پتے رکھنا؟
-اسلام علیکم و رحمۃ و برکاتہ
جس وقت میت کو قبر میں دفن کر دینے کے بعد مٹی ڈالی جاتی ہے
اس وقت بیری کے درخت کی ٹہنی جو رکھتے ہیں
اہلسنت والجماعت کی کسی فقہ کی کتب سے ثابت ہو تو اس کا حوالہ درکار ہے
کتاب کا نام صفحہ نمبر ضرور بتائیں
شمس الدین رضوی خلیلی
_*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*________
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
دفن کے بعد قبر پر بیری کے درخت کی ٹہنی لگانے کی شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے البتہ دو وجوہات سے لگانا جائز ہے ایک تو یہ کہ کہی جگہ پر جانوں قبر کھول دیتے ہیں اس وجہ سے قبر کی حفاظت کی غرض سے کسی بھی درخت کی ٹہنی لگانا جائز ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے میت کے عذاب میں تخفیف ہوگی تو اس نیت سے بھی لگانا جائز ہے کہ جب تک وہ ٹہنی تر رہے گی اس سے میت کو فائدہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ڈالی کھجور کی منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے اور دو قبروں پر ایک ایک رکھ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہو اس وقت تک عذاب کم ہو جائے *صحیح بخاری رقم الحدیث 216*
اور حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر دو ٹہنیاں لگائی جائے *فیض الباری شرح صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 103* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حصول برکت کی نیت سے بھی لگانا جائز ہے قبر پر پھول ڈالنے کی شرعی حیثیت دیکھے ہماری تحقیق فتاوٰی فیض صمدانی میں اس مسئلے پر مکمل بحث کی گئی ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 30 ستمبر 2020 بروز بدھ
احمد رضا عطاری:
https://t.me/joinchat/AAAAAEYSSQz5irJUcI2EFA
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں