امام پر سہو نہ تھا اور سجدہ سہو کر دیا تو مسبوق کی نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ امام پر سہو واجب نہ تو بھول سے سجدہ سہو کر دیا بعد میں معلوم ہوا کہ سجدہ سہو واجب نہ تھا دریافت طلب یہ ہے اب مسبوق کی نماز ہوئی یا نہیں جواب عطاکریں کرم نوازی ہوگی
عبداللّٰہ خان باڑی والا گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسوئلہ میں امام نے سہو کے گمان سے سجدہ سہو کیا تو مسبوق نے بھی اس کی اقتداء کی تو اور سجدہ کیا اور پھر معلوم ہوا کہ واقع میں امام سے کوئی سہو نہ ہوا تھا تو مسبوق کی نماز فاسد قرار پائے گی کیونکہ امام کے سلام پھیرتے ہی وہ (مسبوق ) منفرد ہو گیا تھا انفراد میں اقتداء مفسد نماز ہوتی ہے فقہاء فرماتے ہیں مقام اقتداء میں منفرد ہونا مفسد نماز ہے جیسے کہ مقام انفراد میں اقتداء ( *ردالمحتار جلد 1* *صفحہ 404 )* اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ( مدرکہ مقتدی کی ) ہو جائے گی ہاں یہ امام ہے تو جو مقتدی مسبوق تھا وہ اگر اس بے حاجت سجدہ سہو میں شریک ہوا تو اس کی نماز فاسد ہو گئی ( *فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 328* ) لیکن فقہاء متاخرین نے صحت نماز کا فیصلہ سناتے ہیں کیونکہ قراء میں احکام شرعیہ سے ناواقفی غالب ہے تو ایسے مقام پر فساد نماز کا حکم لوگوں کے لئے حرج کا باعث ہوگا اور حرج مرفوع ہے
اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا ہے، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا *(سورتہ 2 آیت 185* ) اور فرماتا ہے، اللہ چاہتا ہے کہ تم پر آسانی کرے آدمی کمزور بنایا گیا ہے *(سورتہ 4 آیت 28 )* اور فیض میں ایک قول یہ ذکر کیا ہے کہ (مسبوق کی ) نماز فاسد نہ ہوگی اور اسی پر فتوی ہے کہ نماز ہو جائے گی ظہریہ میں فقیہ ابو الیث رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے زمانے میں نماز فاسد نہ ہوگی اس لئے کہ قراء میں ناواقفی غالب ہے *(لاوڈ انسپکٹر کا شرعی حکم صفحہ 18 *بحوالہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 403 ) فتاوی جاویدیہ جلد سوم صفحہ 399 ) واللہ اعلم ورسولہ*
دارالافتاء فیضان مدینہ
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری**
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں