بدمذہب کو سلام کرنا ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین سوال ۔ کیا عیسائی ہندو یہودی  اس طرح شعیہ وہابی کو *خدا حافظ* کہہ سکتے ہیں ؟؟۔ اگر کسی نے کیا تو کیا حکم ؟۔ عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  رخصت ہوتے وقت مسنون یہ ہے کہ سلام کرے اور درج ذیل دعا پڑھے: أَسْتَوْدِعُ اللَّہَ دِینَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیمَ عَمَلِکَ یعنی میں تمھارا دین تمھاری امانت اور آخری عمل (حسن خاتمہ) کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں۔ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ تھام لیتے اور مذکورہ بالا دعا پڑھتے (ترمذی، باب ما یقول إذا ودّع إنسانا)؛ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ روانگی کے وقت اسی کے مطابق پہلے سلام کریں، پھر یہ دعا پڑھیں۔ سلام اور دعا چھوڑکر صرف ”خدا حافظ“ یا ”اللہ حافظ“ کو اس کی جگہ پر استعمال کرنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے، باقی اگر کوئی شخص سلام کے ساتھ ساتھ یہ یا اس طرح کے دوسرے ہم معنی الفاظ بھی کہہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس کی گنجائش ہے۔ رہا یہودی عیسائی اس دور کے کافر ہے ان کو سلام کرنا جائز نہیں اور خدا حافظ بھی دعا کلمات ہے اس لئے یہ بھی جائز نہیں اللہ تَعَالٰی فرماتا ۔لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(۲۸)  ترجمۂ کنز العرفان  مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گاتو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ کہ تمہیں ان سے کوئی ڈر ہو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔( سورتہ 3 آیت 28 )واللہ اعلم و رسولہ، فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری  سیرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا آنلائن مطالعہ فرمائیں 🔛سیرت صدیق اکبر  سیرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا آنلائن مطالعہ فرمائیں 🔛سیرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سیرت فاروق اعظم کا آنلائن مطالعہ فرمائیں  🔛سیرت فاروق اعظم 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598