زکوة سے سامان دینا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زکوۃ کا مال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں میں کہ اگر کوئی شخص  اپنی زکوٰۃ کی رقم کے بلینکیٹ لے کر کسی شرعی فکر کو دے دے تو کیا اس کی زکات ادا ہو جائے گی؟اور کیا رقم کی طرح اس کا بھی شرعی حیلہ کر سکتے ہیں؟ عارف عطاری  کاریلا ،سرندر نگر وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ زکوۃ کی رقم سے کوئی بھی چیز خرید کر شرعی فقیر کو دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی فتاوی جاویدیہ 2 صفحہ 79 میں ہے  زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک فقیر شرط ہے  (یعنی ان کو مالک بنانا ضروری ہے  ) فقیر کو مالک بنانے کے بعد فقیر اپنی مرضی سے وہ چیز کسی کو ہبہ کر دے تو یہ جائز ہے یا وہ فقیر دین کے کام پر خرچ کر دے تو اس کو بھی ثواب ملے گا زکوۃ کا مال فقیر کی ملک ہونے کے بعد وہ کسی بھی جگہ خرچ کر سکتا جیسا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے بریرہ میں تین باتیں تھیں لوگ بریرہ پر صدقہ کرتے تھے اور ہمارے لیے وہ ہدیہ ہوتا تھا میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور تمھارے لیے ہدیہ ہے پس تم اس کو کھا لیا کرو ایک اور روایت میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گائے کا گوشت آیا اور آپ کو بتایا گیا کہ یہ گوشت حضرت بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے آپ نے فرمایا یہ ان کے لیے صدقہ تھا ہمارے لیے ہدیہ ہے  (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 1016  ) واللہ اعلم و رسولہ، فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ہماری طرف منسوب کرے 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598