سرکاری زمین پر قبضہ کرنا؟

کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے اس پر مکان بنانا کیسا اور اس مکان بیچنا کیسا جواب عنایت فرمائیں الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسوئلہ میں زمین جو سرکاری کہلاتی ہے وہ کسی ملک میں نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں شہر یا دیہات (گاؤں ) کی وہ زمین جس کا کوئی شخص مالک نہیں ہوتا اور گورنمنٹ یا پردھان اس میں بطور خود تصرف کرتے ہیں جسے چاہے دے دیتے ہیں اور جو چاہے اس میں بنوا لیتے ہیں ایسی زمین خدائے تَعَالٰی کی ملک ہوتی ہے اور بیت المال کی کہلاتی ہے عند الشرع گورمنٹ یا پردھان اس کا مالک نہیں ہوتا(فتاوی برکاتہ صف 383 ) لیکن ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کے قوانین کی پاسداری کرنی لازم ہے خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے یا مکان بنایا ہوا گورمنٹ گرا سکتی اور یہ سب خود کی ہلاکت کے سبب ہے اور مسلمان کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو اس کی ہلاکت کا باعث ہو ،اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے! وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵) ترجمۂ کنز العرفان اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خودکو ہلاکت میں نہ ڈالو اورنیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتاہے۔ پھر ایسی زمین پر مکان بنوا کر بیچنا یہ بھی صحیح نہیں خریدنے والے کے لیے ہمیشہ خدشہ ہے کہ کب گورمنٹ اس مکان یا زمین پر کوئی قانون کاروائی کر دے تو اس کا پیسہ برباد ہو گیا لہٰذا جس خرید و فروخت کی قانون اجازت نہیں ہوتی ہے اس سے بچنا چاہیے اور اگر ایسی زمین پر قبضہ کرنے والے کو گورمنٹ کی طرف سے روک نہ ہو تو زمین پر قبضہ کرنے سے اس کی ملک ہوتی ہے اب وہ چاہے تو بیچ بھی سکتا ہے مگر یہ احتیاط ضروری ہے کہ خریدار کو کوئی نقصان نہ ہو واللہ اعلم ورسولہ دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری تاریخ 20 ستمبر بروز پیر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598