مرحوم کے گھر دعوت؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اگر کوئ شخص فوت ہو جائے تو مرحوم کے گھر والے دعوت دے کرکھانے پے بلاتے ہیں اس کی کیا شرعی حیثیت ہے
نیز اگر بلا سکتے ہیں تو کتنے دنوں تک دعوت دے کرکھانے پر بلا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ہاں رواج ہے
حافظ شکیل احمد ضلع اٹک پاکستان
✍🏻 *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
میت کے ایصال ثواب کے لئے کھانا کھلائے تو یہ مستحب ہے مگر یہ صرف فقیر ومسیکن لوگوں کو کھلایا جائے نہ کہ برداری کو جمع کر کے کھلانا منع ہے موت میں دعوت ناجائز ہے فتاوی فقیہ ملتا جلد اول صفحہ 295 میں ہے اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں سوم و چہلم کا کھانا مساکین کو دیا جائے برداری کو تقسیم یا برادری کو جمع کر کے کھلانا بے معنی ہے موت میں دعوت ناجائز ہے موت کی نیت سے دعوت کرنا ممنوع ہو بحوالہ فتاوی رضویہ، اور جو شخص میت کے کھانے کے انتظار میں رہتا ہے اس کے نہ ملنے سے ناخوش ہوتا تو ایسا کھانا اس کے دل کو مردہ کر دیتا ہے لہٰذا صرف ایصال ثواب کا کھانا مساکین کو ہی دیا جائے غنی لوگوں کو یہ کھانا جائز نہیں *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 17 جنوری 2021 بروز اتوار*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں