مسجد کی کرسی استعمال کرنا
سنت فجر کی قضا؟ مسجد کی کرسی؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ اگر کوئی شخص فجر کے وقت مسجد میں دیر سے پہنچا اور فرض نماز میں شامل ہو گیا فجر کی سنتیں کب تک پڑھ سکتا ہے؟اور کس نیت سے پڑھے؟
مسجد میں رکھنے کی نیت سے لائی گئی کرسی کو امام اور اس کے گھر والے اپنے استعمال میں میں لا سکتے ہیں؟
عارف خان عطاری
کاریلا, سریندر نگر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
قضا وقت کے بعد واجب کی ادائیگی کو کہتے ہیں اس معنی کے اعتبار سے کسی سنت کی قضا نہیں ہے لیکن اگر فجر کی نماز مع سنت کے چھوٹ جائے تو زوال سے پہلے پہلے فرض کے ساتھ سنت کی قضا کرنے کا بھی حکم تبعاً للفرض ہے اور زوال کے بعد کسی اور وقت میں صرف فرض کی قضا ہے مراقي الفلاح میں ہے: ولم تقض سنة الفجر إلا بفوتہا مع الفرض إلی الزوال (حاشیة الطحطاوي علی المراقي: ۴۵۳)
اسی طرح اگر فجر کی صرف سنت رہ گئی تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر طلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے تک اسے پڑھ لینے کو بہتر کہا ہے قال محمد: وتقضی منفردة بعد الشمس قبل الزوال فلا قضا لہا قبل الشمس ولا بعد الزوال اتفاقًا (حوالہٴ بالا: ۴۵۳) پس امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پر طلوع آفتاب کے بعد فجر کی سنت پڑھ لینا جائز ہے۔ اور مسجد کی کرسی یاں واقف نے اگر عام استعمال کی اجازت دی ہے تو امام صاحب اس کا استعمال کر سکتے ہیں اور اگر واقف کی نیت صرف نماز پڑھنے والوں کے لیے ہے تو اب اس کا امام صاحب کو استعمال کرنا جائز نہیں جیسا فتاوی جاویدیہ سوم صفحہ 17 بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 580 میں ہے کہ مسجد کی چھائیاں عیدگاہ میں نہیں لے جا سکتے کہ مسجد کا مال عیدگاہ میں لے جانا ممنوع ہے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں