عورت روزادار تھی اور حیض آگیا تو اب کیا حکم ہے

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام عورت روزادار تھی اور حیض آگیا تو اب کیا حکم ہے سائل اسلم وڑگاما ماتھک {۱۲} روزے کی حالت میں  حیض یا نفاس شروع ہو گیا تو وہ روزہ جا تا رہااس کی قضا رکھے،  فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نفل تھا تو قضا واجب۔ حیض و نفاس کی حالت میں  سجدۂ شکر و سجدۂ تلاوت حرام ہے اور آیت سجدہ سننے سے اس پر سجدہ واجب نہیں ۔ (بہارشریعت ج۱ص۳۸۲)  {۱۳} حیض یا نفاس کی حالت میں نماز، روزہ حرام ہے اور ایسی حالت میں نَماز و روزہ صحیح ہوتے ہی نہیں ۔ نیز تلاوت قراٰنِ پاک یا قراٰنِ پاک کی آیاتِ مقدَّسہ یا اُن کا ترجمہ چھونا یہ سب بھی حرام ہے۔ (ایضاًص۳۷۹، ۳۸۰)  {۱۴} حیض یانفاس والی کے لئے اِختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہراً ، روزہ دار کی طرح رہنا اُس پر ضَروری نہیں ۔ ( جوہرہ ج۱ص۱۸۶) {۱۵} مگر چھپ کرکھانا بہتر ہے خصوصاً حیض والی کے لئے ۔ (بہارشریعت ج۱ص۱۰۰۴) {۱۶} حمل والی یا دُودھ پلانے والی عورت کو اگر اپنی یا بچے کی جا ن جا نے کا صحیح اَندیشہ ہے تو اجا زت ہے کہ اِ س وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دُودھ پلانے والی بچے کی ماں ہو یا دائی،  اگر چہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں دُودھ پلانے کی نوکری اِختیار کی ہو۔ (دُرِّمُختار، ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۶۳ واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598