تعزیہ دار شخص کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں جو کہ زید پڑھا لکھا ہوا ہے پھر بھی تازیہ کے ساتھ گھومتا ہے اور یوم عاشورہ کے دن تازیہ کے اور ڈی جے اور ڈھول کے آگے آگے الم لے کر چلتا ہے اور زید یہ بات بھی تصدیق کرتاہے کہ یہ ہماری کمیٹی ہے یہ ہمارا اکھاڑا ہے اور میں اس کے ساتھ رہونگا زید سب کچھ جاننے کے باوجود بھی غلط رسومات پر عمل کر رہا ہے تو زید پر کیا حکم شرع وارد ہوتے ہیں جواب عنایت فرمائیں مع مدلل مفصل عین نوازش ہوگی۔ عزیزم محمد عتیق احمد اشرفی پرتاپ گڑھ یوپی ============ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ========= *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* اس وقت جو تعزیہ داری رائج ہے جس میں بے شمار خرافات ہے جو ناجائز ہے اور اس میں باجا اور ڈی جے وغیرہ سب حرام ہے سرکار اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مزامیر حرام ہے فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 152 ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہے کسی نعمت کے ملنے پر خوش ہو کر باجا بجوانا اور مصیبت کے وقت چلا کر رونا *الترغیب و الترھیب* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ باجا کی آواز خوشی میں بھی ملعون ہے تو پھر یہ جاہل تعزیہ دار امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر یہ سب خرافات کر کے امام حسین رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچا رہے ہیں اور ان کی یہ حرکتیں بدعت ہے اور ہر بدعت (ناپسند شریعت ) گمراہی ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو تھام لینا بدعات سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے *سنن الکبری جلد 9 رقم الحدیث 6494* اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو کسی امر ہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے اور جو کسی امر ضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں گے ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف نہ ہو *فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 114* اب زید کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس خرافات میں مبتلا ہیں اور اس کی جو لوگ اتباع کریں گے اس کا گناہ بھی زید پر ہوگا لہٰذا اللہ سے ڈرے اور خرافات سے باز آئے اور توبہ کرے *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *العارض فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* *تاریخ 23 اگست 2020 بروز بدھ*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598