کیا زمین پر زکوة ہے

: کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید نے 8 سال پہلے فیکٹری بنانے کے لیے زمین خریدی مگر کسی وجہ سے فیکٹری چالو نہیں کیا اور اب وہ زمین فروخت کر دیا ہے تو اس زمین پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ زید نے جو زمین خریدی تھی فیکٹری کے لئے نہ کہ تجارت کے لیے اس لیے اس پر زکوۃ واجب نہیں (فتاوی اہلسنت صفحہ 125 ) : جو دوکان اس غرض سے خریدی ہو کہ اس میں کاروبار کیا جائے گا تو اس دوکان کی ویلیو پر بھی زکات واجب نہیں ہوتی، اسی طرح پراپرٹی خریدتے وقت اگر کوئی نیت نہیں کی ہو (کہ اس کو بیچنا ہے یا رہائش اختیار کرنی ہے) تو اس پر بھی زکات نہیں ہے۔ البتہ جو پراپرٹی تجارت کی نیت سے لی ہو کہ اس کو فروخت کر کے نفع کمایا جائے گا تو ایسی تمام پراپرٹیز اگر نصاب کے بقدر ہوں تو ہر سال ان کی موجودہ ویلیو کا حساب کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکات ادا کرنا شرعا لازم ہوگا۔ واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598