جس ادارے میں امیر و غریب کا فرق ہو اس کا حکم ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ جو بڑے بڑے دارالعلوم چلتے ہیں ان کے صدر کا یہ رویہ درست ہے کہ جب کسی امیر کے بچے کا داخلہ کرانا ہوتا ہے تو فوراً ہو جاتا ہے تب انھیں کوئی اصول کی خلاف ورزی یاد نہیں آتی مگر جب کسی غریب کے بچے کا داخلہ کرانا ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ابھی جگہ خالی نہیں ہے لیکن جب کسی امیر شخص سے فون کروایا جائے تو یہ ہی صدر صاحب بلا کچھ بولے فوراً کہہ دیتے ہیں کہ بھیج دوں بچے کو داخلہ ہو جائے گا ہم علماء کرام سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام میں امیر اور غریب میں امتیاز کب سے ہے کیا امیر چندہ دیتا ہے تو غریب بھی تو دیتا ہے ایسے ادارے کے بارے میں حکم شرع بیان فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ان اداروں کو چندہ دینا کیسا؟
سائل رضوان بھائی پالی راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں سوال میں ذکر جو باتیں ہیں وہ درست ہے تو صدر کا یہ رویہ بلکل غلط ہے ہے اسلام میں غریب امیر سب برابر ہیں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
صدر نے پہلے کہا کہ جگہ نہیں ہے پھر امیر آدمی کے کہنے پر داخلہ کے لیے جگہ خالی ہے یہ اس نے جھوٹ بولا اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ۔لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ!
(سورتہ نمبر 3 آیت 61 ) اور حدیث میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں 1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے 2 وعدہ کرے تو اس کو پورا نہ کرے 3 اور جب اس کو کسی چیز کا امین بنا دیا جائے تو خیانت کرے (معارف الحدیث 355 ) اس حدیث کی روشنی میں صدر نے جھوٹ بولا اور ادارے کو چندہ دینے والے تمام مسلمانوں کا حق یکساں تھا اس میں خیانت کی اور کہا جگہ نہیں ہے ایسے صدر کو اللہ ہدایت عطا فرمائیں ایسے ادارے جن کے صدر جھوٹے ہیں اس ادارے میں بچے کیا دین کی تعلیم حاصل کریں گے صدر کو صرف مال سے پیار ہے امت مسلمہ سے حالانکہ امت مسلمہ میں غریب ہی خوش قسمت ہیں صدر صاحب کیا آپ کو معلوم نہیں ہے تو ہم بتا دیتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور ایسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع میں ہوا ہے لہٰذا غریب ہی خوش قسمت ہیں ۔۔مسلم (مشکوتہ جلد اول صفحہ 54 حدیث نمبر 20 ) آج کل زیادہ تر اداروں کا یہ ہی حال ہے کہ مالدار کے سامنے یہ علماء غلام کی طرح حاضر رہتے ہیں اور غریب مسلمان انھیں نظر نہیں آتے جب ان علماء کو سمجھایا جائے تو ان کا یہ کہنا کہ ادارے کو چلانا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے مالداروں کی فرمائش پوری کرنی پڑتی ہے لیکن ہم ان علماء سے باادب عرض کرتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا جس نے صرف آخرت کو اپنا مقصد بنایا تو دنیا کے مقصد کے لیے اسے اللہ تَعَالٰی کافی ہے (مشکوتہ جلد اول صفحہ 74 ) کیا تمھارے ادارے کے لیے اللہ کافی نہیں ہے جو تم امیر و غریب میں امتیاز کرتے اللہ تَعَالٰی چاہے گا تو وہی امیر خود تمھیں مال دینے آئے گا آپ پہلے سنت کے مطابق کام کرنا تو شروع کرو پھر دیکھو اللہ تَعَالٰی اپنے فضل سے کتنا نوازتا ہے لیکن آج کے علماء کا حال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ علم حاصل کر کے یوں کہے گے کہ ہم امراء کی صحبت حاصل کر کے ان کے ذریعے دنیا تک رسائی حاصل کریں گے اور دین کو محفوظ رکھے گے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ خاردار درخت سے کانٹا ہی حاصل کیا جا سکتا ہے (مشکوتہ جلد اول صفحہ 74 ) اسلام میں امیر اور غریب کی عزت الگ الگ نہیں ہے
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ ہی اسے رسواکرتا ہے اور نہ ہی اسے حقارت سے دیکھتا ہے۔ کسی مسلمان کےبرا ہونے کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت سے دیکھے۔‘‘[1](باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۹۸) خلاصہ کلام ایسے اداروں کو چندہ دینا کیسا اس پر ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں ۔ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے“ (ترمذی شریف ) لہٰذا ایسے اداروں سے مسلمانوں کو دور رہنا چاہیے جو اس طرح کے کام کرتے ہیں آپ اس ادارے کو چندہ دے جو سنت کے مطابق کام کرتے ہو بعض ادارے ایسے بھی ہیں جو صرف نام کے دارالعلوم ہے لیکن تعلیم اچھی طرح نہیں ہوتی ایسے ادارے کو بھی چندہ نہیں دینا چاہیے چندہ دینے سے پہلے خوب غور فکر کر لے آپ کی زکوۃ صدقہ صحیح جگہ پر جا رہا ہے یا نہیں آج کل بہت سے فرضی ادارے بھی چلتے ہیں لہٰذا اچھی طرح تحقیق کر کے ہی چندہ دے جہاں اچھی تعلیم ہو رہی ہو ان اداروں کی دل سے مدد کرے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں