جنازہ کو کاندھا دینے سے چالیس گناہ کبیرہ؟
السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
ماسٹر انیس صاحب رضوی
نے دوران تقریر یہ گفتگو کی کہ جو آدمی جنازہ کو کاندھا لگاۓ گا اور چالیس قدم چلے گا اسکے چالیس گناہ کبیرہ معاف ہوتے ہیں
تو وہ چالیس گناہ کبیرہ کون ہیں جو معاف ہوتے ہیں
علماء کرام تقریروں میں بیان فرماتے ہیں کہ جو حج کر لیتا ہے اسکے بھی سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے
جواب طلب یہ ہیکہ حاجی کا کون سا گناہ معاف ہوتا ہے
قرض کا جائداد غصب کرنے کا چوری کا زنا کا غیبت کا
یا اورکوئ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
العارض
امتیاز اختر حیدر نگر پلاموں
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
جنازہ کو کاندھا لگانے والے کے بارے میں حدیث مطلق ہے اس سے کون سا گناہ کبیرہ مراد ہے اس کی تصریح فقیر کی نظر سے نہیں گزری چالیس نہیں بلکہ تمام گناہ اللہ تعالی چاہے تو معاف فرما دیں یہ محض فضل الٰہی ہے اور اسی طرح حج کے متعلق یا اور بھی نیک اعمال کے متعلق حدیثیں ہے علماء فرماتے ہیں اس سے گناہ صغیرہ کی معافی ہے اور رب کی رحمت سے کبیرہ بھی معاف ہو جائے تو کیا تعجب ہے جیسا حضرت علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں احدیث میں یہ بھی ہے کہ پانچ نمازیں پڑھنا ایسا ہے جیسے دن میں پانچ بار غسل کرنا اور جس طرح دن میں پانچ بار غسل کرنے سے بدن پر کوئی میل نہیں رہتا اسی طرح دن میں پانچ نمازیں پڑھنے سے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا اس پر سوال یہ ہے کہ دوسری حدیث میں ہے کہ پانچ نمازیں دن کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کرے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے نمازیوں سے صرف صغائر معاف ہوتے ہیں جبکہ اس باب کی حدیث ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں سے صغائر اور کبائر دونوں معاف ہو جاتے ہیں *اس کا جواب* یہ ہے کہ صغائر کے ارتکاب سے ظاہری بدن پر میل جم جاتا ہے اور کبائر کے ارتکاب سے باطن پر میل جم جاتا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے، ہرگز نہیں بلکہ ان کے (برے ) کاموں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا (سورتہ 83 آیت 14 ) صغائر کا زنگ نمازوں سے دھل جاتا ہے اور کبائر کا زنگ یا تو توبہ سے دھلتا ہے *یا شفاعت سے یا محض فضل الٰہی سے* ( *شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 301*)
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے رسول اکرم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا *عرض* کیا یا رب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صبح کی تو وہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا الخ( مشکوتہ رقم الحدیث 2486 ) اس حدیث کی شرح میں حکم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مظالم سے مراد حقوق العباد ہیں خواہ مالی حق ہوں یا جانی، حق، حق العبد وہ ہے جو بندے کے معاف کر دینے سے معاف ہو جائے اور حقوق اللہ وہ ہے جسے بندہ معاف نہ کر سکے یعنی حقوق اللہ معاف نہ ہوگا وہ ادا ہی کرنا ہوگا خیال رہے کہ یہ حج مقبول کی جزا ہے حج مقبول ہوتا ہی وہ ہے جو نمازیں وغیرہ ادا کر کے کیا جائے لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب نہیں عمر بھر تارک نماز اور شرابی زانی رہو حج کر آؤں سب معاف ہو گیا بلکہ پہلے ان جرموں سے صحیح توبہ کرو پھر آئندہ ان کے قریب نہ جائے تو انشاءاللہ عزوجل گزشتہ کوتاہیوں کی معافی ہو جائے گی، یعنی مظلوم کو جنت دے کر ظالم سے راضی کر دے کہ مظلوم ظالم کو معافی دیے دے اپنا حق مظلوم معاف کردے اے رب تو اپنا حق معاف فرما دے الخ( مراتح المناجیح جلد 4 صفحہ 160 ) *واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تاریخ 11 جولائی 2021 بروز اتوار
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں