بھتیجی کو زکوۃ دینا کیسا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اسلام اس مسلہ کے جواب میں کہ کیا اپنی حقیقی بہن اور بھتیجوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں مکمل ومدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں محمد جمال الدین اکبری کوٹھی وانکانیر ____ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*__ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ رشتہ داروں میں سے کوئی حاجت مند ہو تو اور شرعی فقیر (غریب ) ہو تو اس کو زکوۃ دینا افضل ہے مگر ان کو دینے میں چند شرائط ہے *1* سید ہاشمی نہ ہو *2* والدین *3* یا اپنی اولاد میں سے نہ ہوں *4* میاں بیوی نہ ہوں *5* ایسا نابالغ نہ ہو جس کا والد غنی ہو (مالک نصاب ) ان کے علاوہ بھائی بہن ساس سسر بہو داماد خالہ پھوپھی چچا ماموں ان سب کو زکوٰۃ دینا جائز ہے بشرطیکہ مستحق ہوں 📗 *فتاوی اہلسنت صفحہ 399* 📗 حضرت مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں زکوٰۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اولاد اپنے بھائی بہنوں کو دے پھر ان کی اولاد کو پھر چچا پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر ان کی اولاد کو پھر ذوی الاحرار (رشتہ داروں کو ) پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤ ں رہنے والوں کو (بشرطیکہ وہ مستحق زکوٰۃ ہو ) 📙 *بہار شریعت جلد اول صفحہ 933* 📙 خلاصہ کلام بہن اور بھتیجوں کو زکوۃ دینا جائز ہے بشرطیکہ وہ مستحق ہو *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 6 مئی 2021 بروز جمعرات ✍🏻

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598