امام کا شادی شدہ ہونا ضروری ہے
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع اس بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتاہے اور وہ ابھی شادی شدہ نہیں ہے تو اس کے بارے میں کچھ۔ مقتدیان کسی کے کہنے پر بار بار اسے یہی کہتے ہیں آپ نے شادی نہیں کی ہے اس لیے آپ کے پیچھے نماز درست نہیں ہے سوال یہ ہے کہ ہم نے آج تک نہیں سنا اور نہ پڑھا ہے شادی شدہ ہونا شراءط امامت میں سے ہے اب جس مولانا نے ایسی بات لوگوں کے دل میں ڈال کر فتنہ کھڑا کیا ہے تمہارے امام غیر شادی شدہ ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اس کے بارے شریعت کا کیا حکم ہے ساءل ولی محمد اکبری آسپور ضلع ڈوگر پور راجستھان
__ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* _
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* امامت کے لیے شادی شدہ ہونا نہ شرط ہے نہ واجب ہے نہ ہی مستحب ہے صرف مباح ہے وہ بھی اس لیے کہ امام صاحب اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بیوی کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتے رہے گے تو ان کو یہ ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بیوی صاحبہ کے ساتھ رہنا پھر محترمہ کی تلخ کلامی پر صبر کرتا یہ ثواب کا کام پھر دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ امام صاحب ہمیشہ تر و تازہ رہے گے جس کی وجہ سے امامت کا لطف کچھ اور بڑھ جائے گا خیر پھر بھی اگر امام صاحب شادی شدہ نہیں ہے تو امامت کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بیوی کا ساتھ میں رکھنا بہت بہتر ہے بہت سے بلا سے امام صاحب محفوظ رہے گے جو علماء شادی شدہ نہیں ہے ان کے لیے ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالی جلد سے جلد انھیں نیک بیوی عطا فرمائے، (اکبری ) جس مولانا نے کہا کہ امام کا شادی شدہ ہونا چاہیے یہ جھوٹ کہا اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے *قرآن مجید* اور حدیث پاک میں ہے بغیر علم کے فتوی دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے *فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 716* اگر وہ غلط مسئلہ بتانے والا لوگوں میں فتنہ پھیلانا چاہتا ہوں ورنہ مولانا تو مولانا ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ امامت کے لیے شادی شدہ ہونا ضروری نہیں یہ مولانا فاسق ہے اس کی اقتداء مکروہ تحریمی ایسے شخص کو مولانا کہنا ہی نہیں چاہیے اس مولانا کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ علانیہ توبہ کرے اور لوگوں کو بتائے کہ میں نے غلط مسئلہ بتایا تھا اگر وہ علانیہ توبہ نہ کرے تو پھر اس کو امامت سے رخصت کر دیا جائے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 21 نومبر 2020 بروز ہفتہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں