امام کا محراب میں کھڑا کر نماز؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٸلہ کے بارے میں اما م کو محراب کے اندر کڑھے ہوکر نماز پڑھا نا کیسا ہے اور اس کے کھڑھے ہو نے کی حد کہا تک ہے
نیز کیامحرا ب مسجد ہی میں شمار کیا جا تا ہے
ساٸل محمد سخی نقشبندی مجددی
باڑمیر راجستھان
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہو مکروہ ہے (ہاں پاؤں باہر ہو اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں ) (فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 131 ) ہاں جگہ میں تنگی ہو تو امام محراب میں کھڑا تو مکروہ نہیں بشرطیکہ پاؤں باہر ہو اور سجدہ محراب کے اندر تو اس میں کراہت نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے (فیضان فتاوی رضویہ صفحہ 134 ) البتہ پیچھے والے نمازیوں کے لیے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کو محراب میں قیام نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیبت اختلاف مکان کا شبہ پیدا کرتی ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 4 جولائی 2021 بروز اتوار
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں