دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کسی شخص کو دھوکہ دینا کیسا خود کا ہو یا سرکاری ہو تو اس دودھ میں پانی ملا سکتے ہیں برائے کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائے
سائل *محمد امتیاز ۔۔وانکانیر*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
دودھ میں پانی ملانے سے متعلق اصولی بات یہ ہے کہ دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنے کی ممانعت اس وقت ہے جب کہ پانی ملے ہوئے دودھ کو خالص دودھ کہہ کر فروخت کیا جائے اگر پہلے سے بتا دیں کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے اور وہ بخوشی خریدے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جہاں عرف ہے اتنا پانی ملایا جاتا ہے اس میں بھی حرج نہیں مگر دودھ کو خالص دودھ کہہ کر فروخت کرتا ہے تو یہ دھوکہ ہے اور دھوکہ دینا ناجائز ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکہ سے منع فرمایا *صحیح بخاری رقم الحدیث 2142* 📙 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا *صحیح بخاری رقم الحدیث 6966*📙 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں *صحیح مسلم رقم الحدیث 284* 📗
*واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 21 مئی 2021 بروز جمعہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں