سلام میں کھڑا نھیں ہوتا

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اہلسنت والجماعت کا فرد ہے مگر جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ جو مسجد میں صلوات و سلام پڑھا جاتا ہے اس میں کبھی بھی کھڑا نہیں رہتا یعنی سنت و نوافل پڑھ کر چلا جاتا ہے اور سلامی کا انکار بھی نہیں کرتا لھاذا اب زید کے بارے میں شرعی حکم کیا لگے گا بینو تاجرو ساءل علی بخش اکبری *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں جب زید صحیح العقیدہ سنی ہے اور صلاتہ و سلام کے وقت حاضر نہیں رہتا ہے تو اس پر کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا اس دور میں جو سلام پڑھا جاتا وہ بدعت حسنہ ہے کوئی فرض یا واجب نہیں بلکہ مسجد میں بلند آواز سے پڑھنا منع ہے جبکہ کچھ لوگوں کی نماز ابھی باقی ہو تو لوگوں کی نمازوں میں خلل ہو تو اس کے متعلق حضرت فقہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں منع کرنا فقط جائز نہیں بلکہ واجب ہے *فتاوی برکاتہ صفحہ 309* لہٰذا زید پر کوئی اعتراض کرنا فضول ہے *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* تاریخ 14 ستمبر بروز پیر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598