مرد کو لال رنگ کے کپڑے ؟
…...لال رنگ کے کپڑے پہننا؟ ……
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا مرد لال رنگ کے کپڑے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں سائل شکرالدن آڈےسر گجرات
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
۔مردوں کے لیے لباس سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ وہ ایسا لباس پہنیں جس لباس میں فاسقوں اور کافروں سے مشابہت نہ ہو، اور نہ وہ زنانہ لباس کی طرح ہو، اسی طرح وہ کسم یا زعفران سے رنگا ہوا بھی نہ ہو۔
باقی مردوں کے لیے خالص سرخ رنگ کا لباس (جس میں دوسرا بالکل نہ ہو) پہننے کی ممانعت بعض روایات میں آئی ہے، اس ممانعت کی حیثیت کے حوالے سے فقہاءِ کرام کے مختلف اقوال ہیں؛ بہرحال خالص سرخ رنگ میں عورتوں سے مشابہت بھی ہے، اس لیے اس کا مکروہ ہونا راجح ہے، لہٰذا مردوں کو خالص سرخ رنگ کا لباس استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ البتہ اگر اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش ہو یا وہ دھاری دھار ہو تو مضائقہ نہیں ہے۔ نیز بہت زیادہ شوخ رنگ اور اعتدال سے زیادہ کڑھائی اور سنگھار والے کپڑے پہننا بھی مردوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔
اور سرخ رنگ کے کپڑے پہننا اس حدیث کی روشنی میں مکروہ ہے
ابوداوٴد میں ہے کہ ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے اور سلام کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، وہ سرخ رنگ کے جوڑے پہنے ہوئے تھے۔ (ابوداوٴد: ۲/۵۶۳) بہرحال نماز تو ہو جائے گی واللہ اعلم و رسولہ! فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں