نماز میں اعراب کی غلطیاں

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں *سمع اللہ لمن حمدہ* کی جگاہ *سمیَ اللہ لمن حمدہ* یا *سماَ اللہ لمن حمدہ* پڑھے تو کیا نماز فاسد ہو جائیگی ؟ اسی طرح اگر سورۂ نشرح میں *صَدْرک* کی جگہ قلقلہ کرنے کی وجہ سے *صَدَرک* پڑھا , سورۂ رحمان میں *لا یَبْغیان کو لا یَبَغیان* پڑھا تو کیا حکم ہے ؟ اسی طرح سورۂ فاتحہ میں *صراط* کو *سرات* پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ اور معنی بدل کر کیا ہوتے ہیں یہ بھی ارشاد فرماءے *اور اگر(معنی بدل جانے کی صورت میں) یہ غلطیاں امام نے کی ہو اور بہت دنوں تک کی ہو تو کیا اس کے پیچھے پڑھی نمازوں کو قضا کرینگیں ؟اور کیا امام کو بھی سب کے سامنے یہ یہ غلطیاں بتا کر ان کو نمازیں قضا کرنے کا کہنا پڑھیگا ؟ سائل :عارف عطاری از: کاریلا, سریندرنگر گجرات, انڈیا ............. *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں خطا فی الاعراب یعنی حرکت سکون، تشدید، تخفیف، قصر، مد کی غلطی میں علمائے متاخرین رحمۃاللہ علیہ کا فتوی یہ ہے کہ علی الاطلاق اس سے نماز نہیں جاتی، *فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 249* اور پھر فرماتے ہیں کہ درمختار میں ہے کہ قرائت کرنے والے کی غلطی اگر اعراب میں ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ اس سے معنی بدل جائے اسی پر فتوی ہے، اب یہ حکم عوام کے لیے ہونا چاہیے لیکن امام کا حکم یہ ہے کہ قرآن درست پڑھنے والا ہونا چاہیے مگر افسوس سدا افسوس کہ مسلمان امام کے خلاف فتوی لینے میں سب سے آگے ہے مگر اپنی مساجد میں ایک اچھا امام رکھنے کے لیے ان کے پاس مال نہیں ہے اور یہ لوگ دنیا کے سب سے غریب بن جاتے ہیں حالانکہ یہ ہی مسلمان اپنے شادی بیاہ میں لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں ناچ گانے کے لیے ان لوگوں کے پاس مال ہے مگر ایک امام جو مسلمانوں کے ولادت سے لے کر قبر تک کام کرنے والے کے لیے ان کے پاس مال نہیں ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اب مساجد کی مصلے پر قاری حافظ مولانا کم اور میاں جی زیادہ ہے تو پھر قرائت غلط ہے تو اس میں قصور کس کا ہے بڑی شرم کی بات ہے کہ مسلمان جب ایک موبائل فون خریدتا ہے تو کہی لوگوں سے مشورہ کرتا ہے کہ کہی مال ضائع نہ ہو جائے اور جب مسجد میں امام رکھتے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ جتنی کم تنخواہ والا ہو اسے رکھے پھر اگرچہ ان کی نمازیں برباد ہو جائے تو بھی فکر نہیں مسلمانوں اب بھی وقت ہے کہ تم اپنے اماموں کا خیال رکھو اور مسجد میں میاں جی امام نہ رکھو بلکہ قاری حافظ مولانا رکھو ان کی مالی امداد کرو ان کو اچھی تنخواہ دو ورنہ یاد رکھو تمھاری غفلت سے ایک دن وہ بھی دور نہیں کہ جنازہ پڑھانے والا بھی نہ ملے معذرت خواہ ہوں کہ ہمارے اس فتوے سے آپ کو تکلیف ہو سکتی ہے مگر یہ میرے دل کی آواز ہے *واللہ اعلم و رسولہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598