مزارات کی چادر فروخت کرنا؟

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے پر زید درگاہوں کے مجاوروں سے چادر خرید کر اسے فروخت کرتاہے کیا مجاور مزار شریف کی چادر بیچ سکتا ہے یا نہیں اور کوئ اسے خرید کر دکان پر لاکر بیچے تو اس پر شریعت کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے بڑی مہربانی ہوگی محمد عرفان خان شیندورنی جلگاوں مہاراشٹر انڈیا __*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*______ ✍🏻 *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت فقہ ملت مفتی جلال الدین رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں نذر ماننا ان کی قبروں پر خدمت کرنے والوں پر صدقہ کرنے سے مجاز ہے معلوم ہوا کہ نذر مزارات کی خدمت کرنے والوں پر صدقہ ہوا کرتا ہے لہذا وہ اسے اپنے کام میں بھی لاسکتے ہیں اور بیچ بھی سکتے ہیں *فتاوی برکاتہ صفحہ 428* 📙 *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ *2 جنوری 2021 بروز ہفتہ*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598